ریاض سربراہ کانفرنس:دہشت گردی کے خلاف نئی فورس کا اعلان
امریکا، عرب،مسلمان ممالک کی 34 ہزار سپاہیوں پر مشتمل فورس
سعودی عرب کی میزبانی میں کل اتوار کے روز مسلمان، عرب ممالک اور امریکا کی سربراہ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ایک نئی فورس کی تشکیل کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر34 ہزار فوجیوں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض میں اسلامی، عرب ، امریکی سربراہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کےزیر صدارت منعقد کی گئی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 55 مسلمان ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔
اس موقع پر انسداد دہشت گردی کے لیے ایک فورس کی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ آئندہ سال مشرق وسطیٰ میں نیا اسٹریٹیجک اتحاد تشکیل دیا جائے گا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے ساتھ ساتھ اتحاد میں شامل ممالک کے دفاعی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔
سربراہ کانفرنس میں عرب ملکوں، مسلمان ممالک اور امریکا کےدرمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل اعتماد شراکت کو یقینی بنانے، علاقائی امن و سلامتی، استحکام اور ترقی کے اہداف کےحصول کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
عرب اور مسلمان قیادت نے ریاض کی میزبانی میں انسداد دہشت گردی مرکز کے قیام کا خیر مقدم کیا اور یقین دلایا کہ دہشت گردی کےفکری اورمالی سوتے خشک کرنے، رواداری اور بقائے باہمی کے فلسفے کو عام کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
اسلامی سربراہ قیادت نے کانفرنس کے دوران ایران کی خطے کے ممالک میں معاندانہ مداخلت، پڑوسی ملکوں کےاندرونی معاملات میں دخل اندازی اور دہشت گردی کی پشت پناہی کی شدید مذمت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران پڑوسی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے ایرانی مداخلت روکنے کے لیے تمام اقدامات کو بروئے کار لانے کا عزم ظاہر کیا۔
کانفرنس کے آخر میں جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا، عرب ممالک اور مسلمان ملک ایک ہی صفحے پر ہیں۔ آج کی یہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا عہد کرتی ہے۔ ریاض کانفرنس کو امریکا اور مسلمان ممالک کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا باب قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تمام عرب اور مسلمان ریاستیں امریکا کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے فکری، نظریاتی اور مالیاتی سوتوں کو خشک کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں گی اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ وسائل مہیا کیے جائیں گے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ہر شکل کو بری طرح کچل دیا جائے گا۔ مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن، استحکام اور ترقی کے لیے آئندہ سال ایک نیا اتحاد تشکیل دیا جائے گا۔
سربراہ کانفرنس میں فرقہ واریت کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے سے بھی اتفاق کیا گیا۔
انسداد دہشت گردی فورس کو موثربنانے کے لیے مسلمان اور عرب ممالک میں اس کے مراکز قائم کیے جائیں گی۔ وزارت سطح کی کمیٹیاں اس فورس کی تشکیل کار کردگی پر نظر رکھیں گی۔ دہشت گردی کا شکار ممالک بالخصوص شام اور عراق میں دہشت گردی کچلنے کے لیے تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب کی میزبانی میں اسلامی، عرب اور امریکا سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں 55 ممالک کی سربراہ قیادت نے شرکت کی۔
-
امن کا راستہ اس قدیم اور مقدس سرزمین سے نکلتا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
’’ہمارے دشمن دہشت گردوں کو ہمارے عزم کے بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے‘‘
بين الاقوامى -
ایران عالمی دہشت گردی کا امام ہے: شاہ سلمان بن عبدالعزیز
تمام ممالک ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں: ڈونلڈ ٹرمپ
بين الاقوامى -
امریکا ،اسلامی سربراہ اجلاس: دہشت گردی مخالف جنگ میں تعاون بڑھانے کا عزم
اجلاس میں 50 سے زیادہ اسلامی اور عرب ممالک کے سربراہان حکومت و مملکت کی شرکت
بين الاقوامى