یمنی ملیشیاوں کی حکومت کو جھٹکا، وزیر تعلیم جل دے گئے
یمن میں حوثیوں باغیوں کی متوازی حکومت کے وزیر برائے اعلی تعلیم حسین حازب اتوار کے روز اپنے سابقہ ساتھیوں کو جل دے کر یمن کی آئینی حکومت کے زیر نگیں علاقے میں منتقل ہو گئے۔ اس امر کا انکشاف مارب گورنری میں یمنی قبائل اور مقامی ذرائع ابلاغ نے کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حازب حوثیوں کا گھیرا توڑ کر دارلحکومت صنعاء سے اپنے اہل وعیال اور چند دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہو کر مارب پہنچے ہیں۔
حسین حازب بہت عرصے سے حوثی ملیشیا کو جوابدہ انقلابی کمیٹیوں کے ساتھ مختلف معاملات پر اختلافی رائے کا اظہار کرتے چلے آ رہے تھے جس کی وجہ سے انقلابی کمیٹی کے نگران نے ان کے اپنے دفتر داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی جس کے باعث ان کے محافظوں اور حوثیوں کے چوکیداروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
حازب نے مارب پہنچنے پر ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ جب آپ کا ملک، قوم، تاریخ، وجود اور اجتماعی سلامتی خطرات سے دوچار ہو تو ایسے میں چپ رہنا خیانت ہے۔ خاموشی ہر وقت قابل تحسین نہیں ہوتی۔
حوثیوں کے سرکردہ وزیر کا باغی حکومت چھوڑ کر یمن کے آئینی سیٹ میں داخل ہونا ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کے جلو میں سابق صدر علی عبداللہ صالح اور دوسرے باغی فریق حوثیوں کے درمیان پہلے ہی معاملات کشیدہ ہیں۔ ایسی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ عبداللہ صالح کی پارٹی کے 90 رہنماوں کے قتل کا ٹاسک حوثیوں کو دیا جا چکا ہے۔