سعودی عرب میں 250 قدیمی غاروں کو سیاحتی مقاصد کے لیے ترقی دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

پہاڑوں میں بنی قدرتی غاروں سے بن نوع انسان کو شروع ہی سے دلچسپی رہی ہے اور پتھر کے زمانے میں انسان ان ہی غاروں میں بسیرا کیا کرتے تھے۔اس قدیم دور کے انسان نے خود بھی پہاڑوں کو تراش خراش کر اپنی پناہ کے لیے کھوہیں بنائی تھیں۔آج ان تاریخی غاروں میں انسان بالعموم بسیرا تو نہیں کرتے لیکن وہ ان کے لیے دلچسپی کا سامان ضرور ہیں اور وہ اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پانچ ہزار سے زیادہ غاریں ایسی ہیں جہاں ہر سال پچیس کروڑ افراد سیاحت کے لیے جاتے ہیں۔ان کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ایک ان کی سیر اور دوسرا ان کی حقیقت دریافت کرنا اور وہاں موجود تاریخی آثار کا کھوج لگانا۔ان غاروں کی سیاحت سے عالمی سطح پر دو ارب ڈالرز سالانہ کی آمدن ہوتی ہے۔ خطۂ عرب میں سیکڑوں غاریں موجود ہیں اور خانہ بدوش عرب آج بھی انھیں سخت موسمی حالات اور ریت کے طوفانوں میں محفوظ پناہ گاہیں خیال کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں چند ایک مقدس غاریں ہیں جہاں ہر سال حج اور عمرے کی سعادت کے لیے دنیا بھر سے آنے والے عازمین ضرور جاتے ہیں۔ ان میں جبل النور پر واقع غار حرا کو سب سے نمایاں مقام حاصل ہے جہاں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے سرفراز ہونے سے پہلے عبادت وریاضت کے لیے جایا کرتے تھے اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔غارِ حرا کی لمبائی تین میٹر اور چوڑائی پونے دو میٹر ( 1.75 میٹر) ہے ۔

سعودی ارضیاتی سروے ( ایس جی ایس) 1999ء سے مملکت میں موجود غاروں کا سروے اور تحقیقی مطالعہ کررہا ہے۔اس نے سعودی سوسائٹی برائے جیو سائنسز سے مل کر گذشتہ ہفتے جدہ میں چار روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا ۔اس میں بہت سے عرب اور دنیا کے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جیو سائنس دانوں اور ماہرین نے شرکت کی تھی۔اس میں سعودی عرب میں غاروں کی سیاحتی مقاصد کے لیے ترقی کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔

اس کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں ہزاروں ایسی غاریں موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے نہ صرف سیاح بلکہ جیالوجسٹ بھی سیر اور تحقیقی مقاصد کے لیے آ سکتے ہیں۔چنانچہ سعودی عرب کے سیاحتی کمیشن نے مقامی سطح پر سیاحت کے فروغ کے لیے ڈھائی سو غاروں کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ان میں شعفان کی غار سب سے طویل ہے۔اس کی لمبائی دو کلومیٹر ہے۔یہ آٹھ میٹر اونچی اور 800 میٹر گہری ہے۔اس جگہ سے جانوروں کی کھوپڑیاں اور ان کے ڈھانچے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

تاریخ اسلام میں نمایاں اہمیت کی حامل غارِ ثور مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہیں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کے وقت قیام فرمایا تھا اور کفار مکہ آپ کی تلاش میں اس کے دہانے تک پہنچ گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا تھا۔

سعودی ماہر ارضیات ڈاکٹر محمود آل شنطی کا کہنا ہے کہ ’’ مملکت میں بہت سی غاروں سے مقامی لوگ آشنا ہیں ۔وہ انھیں پناہ کے علاوہ پانی کے ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ 89 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط آتش فشاں پہاڑوں کے زمینی مطالعے کے بعد یہ پتا چلا ہے کہ ان سے لاوا ابلنے کے بعد سے بہت سی اور غاریں بھی نمایاں ہوگئی ہیں اور ان پر جمی دبیز تہیں ہٹ گئی ہیں۔

ان غاروں سے ہڈیوں ، نوادرات اور زندگی کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔نیز جزیرہ نما عرب میں موسمیاتی سائنس دانوں کو ان غاروں سے موسم کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں بھی مفید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ڈاکٹر آل شنطی کا کہنا ہے کہ سعودی غاروں کے سائنسی مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ان غاروں کو تزئین و آرائش کے بعد جب سیاحوں کے لیے کھولا جائے گا تو اس سے ملکی معیشت پر بھی مثبت ا ثرات مرتب ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں