.

ایران گوگل اور’ایپل‘ کے پروگرامات کے ذریعے جاسوسی کر رہا ہے

ایرانی اپوزیشن کونسل کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اپوزیشن کی بیرون ملک سرگرم ’ایرانی قومی مزاحمتی کونسل‘ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی رجیم ٹیکنالوجی کمپنیوں ’گوگل‘ اور ’ایپل‘ کے سافٹ ویئرز[پروگرامات اور ایپس] کو جاسوسی کے مقاصد کے لیے اندرون اور بیرون ملک استعمال کر سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی قومی مزاحمتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام فوری پیغامات کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے ’موبوگرام‘ پروگرام کو صارفین کی سرگرمیاں جانچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ’موبوگرام‘ سسٹم امریکا میں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے یہ سافٹ ویئر صارفین کی پرائیویسی کے لیے محفوظ نہیں۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب مستقبل میں کسی عوامی احتجاج تحریک کو روکنے، سائبر سیکیورٹی اور تشدد کے حربوں کے لیے سافٹ ویئرکی مدد سے شہریوں کی نگرانی کرتا ہے۔

ایرانی اپوزیشن رہ نما علی جعفر زادہ کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب ایرانی رجیم کو بچانے کے لیے اندرون اور بیرون ملک وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجی کے پروگرامات کو بروئے کار لا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا میں سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ کی فہرست میں ’موبوگرام‘ کا 156 واں نمبر ہے۔ یہ ایک غیر سرکاری ایپ ہے جو ٹیلی گرام کے استعمال کی سہولت دیتی ہے جب کہ ٹیلی گرام پر ایران میں پابندی عاید کی جا چکی ہے۔ موبوگرام کو ٹیلی گرام ہی کے ڈھانچے پر تیار کیا گیا ہے۔

ایران میں فیس بک اور ٹوئٹر جیسی مقبول سوشل ویب سائیٹ زیرعتاب رہی ہیں تاہم اس کے باوجود ایرانی صارفین کی ایک بڑی تعداد ان سے وابستہ ہے۔

ایرانی اپوزیشن کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب ٹیکنالوجی کمپنی Hanista کو موبائل فون کے سافٹ ویئرز کی تیاری کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس کے سافٹ ویئرز میں پوشیدہ خفیہ کوڈز صارفین کی جاسوسی اور نگرانی کے لیے مدد کرتے ہیں۔