تیونس: طالبہ کی ماں اور استاد کے درمیان خونی تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس میں ایک اسکول کے معلم اور طالبہ کی ماں کی ماں کے درمیان ہونے والی ہاتھا پائی اور خونی تصادم کے واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ مشرقی تیونس کی وسطی گورنری سوسہ میں ایک اسکول میں پیش آیا جب اسکول ٹیچر نے اپنی ایک طالبہ کی ماں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک خاتون کو خون آلود چہرے کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے جب کہ دونوں کےدرمیان تکرار بھی جاری ہے۔ خاتون اور اسکول کےاستاد کے درمیان یہ تصادم طلباءکے سرپرست حضرات کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پیدا ہوا۔

بچی کی ماں نے قلعہ الصغریٰ کے ایک پرائمریی اسکول کے استاد پر تشدد کا نشانہ بنانے اور اسے برا بھلا کہنے کا الزام عاید کیا۔ اس نے بتایا کہ اسکول کے استاد نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کا چہرہ خون سے تر ہوگیا۔ ماں کا کہنا تھا کہ اسکول ٹیچر نے پہلے اس کی بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس نے جب معلم سے بچی پر تشدد کے بارے میں پوچھا تو اس نے اسے بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ تاہم اسکول ٹیچر کا کہنا ہے کہ اس نے کسی قسم کا تشدد نہیں کیا بلکہ بچی کے اہل خانہ نے اسے مارا پیٹا۔ واقعے کی فوٹیج بنائی تاکہ مجھے بدنام کیا جاسکے۔

سوسہ میں محکمہ تعلیم کےایک عہدیدار نجیب الزبیدی کا کہنا ہے کہ بچی کی وجہ سے خاتون اور استاد کے درمیان لڑائی کا اصل محرک خاتون خود ہے۔ اس نے مدرس کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کےباعث وہ زمین پر گر پڑا۔ اسے ماں بیٹی دونوں نے بری طرح مارا پیٹا جب کہ اس کی ایک ہمیشرہ نے موبائل کیمرے میں اس کی فوٹیج بنائی اور یہ دعویٰ کردیا کہ میں نے خاتون پر تشدد کیا ہے۔

واقعے کے بعد ہفتے کے روز سوسہ گورنری کے بعض اسکول بند رہے۔ مقامی شہریوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ استاد اور بچی کی والدہ پر تشدد دونوں ناقابل قبول ہیں اور کسی فریق کو ایسے واقعے کی فوٹیج بنا کر اس کی تشہیر کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں