.

’’قطر انتہا پسند لیڈروں کو انٹیلی جنس کے ذریعے آلہ کار کے طور پر استعمال کررہا ہے‘‘

ایران ، ترکی اور قطر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دوسرے ممالک میں مداخلت کررہے ہیں: رکن سعودی شوریٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل اور شاہ عبدالعزیز مرکز برائے قومی مکالمہ کے رکن عیسیٰ الغیث نے قطر پر القاعدہ اور الاخوان المسلمون سمیت مختلف انتہا پسند تنظیموں کے لیڈروں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اپنے انٹیلی جنس نظام کو بروئے کار لانے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے العربیہ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ کہ قطر نے القاعدہ کے لیڈر عبدالعزیز المقرن کو سعودی عرب میں داخلے کے لیے پاسپورٹ جاری کیا تھا تاکہ وہ مملکت میں دہشت گردی کی سرگرمیاں انجام دے سکیں ۔

انھوں نے کہا کہ قطر سے اس طرح کی امداد حاصل کرنے والوں میں السروریہ گروپ بھی شامل ہے۔ یہ دھڑا سعودی عرب میں الاخوان المسلمون کی شاخ سے الگ ہونے والے ارکان نے قائم کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک اور الاخوان کے ارکان نے قطر کے دورے کیے تھے اور وہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع مشہور رابعہ چوک میں بھی نظر آئے تھے۔تب ڈاکٹر محمد مرسی مصر کے صدر تھے۔

عیسیٰ الغیث نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں گروپوں کے ارکان استنبول میں بھی پائے گئے تھے۔وہ قطر اور ترکی کی اندھی تقلید کررہے ہیں جبکہ اپنے ہی ممالک کے خلاف سرگرمیوں میں ملوّث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہمارے پاس ہزاروں کتب ہیں ۔ان میں بیشتر کی کوئی قدر وقیمت نہیں لیکن اس خفیہ نظریے کی خطرناک حقیقت کے بارے میں کچھ بھی نہیں چھپتا ہے حالانکہ اس نظریے کی بنیاد پر کئی تنظیمیں گذشتہ کئی برسوں سے موجود ہیں ،ان سے ہماری زندگیوں ، نظریات اور ملک کو خطرات لاحق ہوئے ہیں ۔میں اس موضوع پر صرف ایک کتاب کا تذکرہ کروں گا ۔یہ اسٹیفن لیکرائیکس کی لکھی کتاب ’’ بیداریِ اسلام ‘‘ ہے‘‘۔

انھوں نے ان خفیہ اور خطرناک تنظیموں کو نظر انداز کرنے کے طرز ِعمل پر بھی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایران ، ترکی اور قطر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دوسرے ممالک میں مداخلت کررہے ہیں اور ان کے ایجنٹ سنی اور شیعہ دونوں گروہوں کی اسلامی تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں ‘‘۔

سعودی شوریٰ کونسل کے رکن کا کہنا تھا کہ عرب دنیا میں 1979ء کے بعد سے گذشتہ چالیس سال کے دوران میں جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ہورہا ہے ،اس سے نمٹنے کے لیے پیشہ ور انہ صلاحیتوں کے حامل سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے‘‘۔

’’ میرے خیال میں تین ممالک اور ایک جماعت کو بدترین دشمن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ۔ وہ عرب سلامتی کے لیے بھی سب سے بڑا خطرہ ہیں اور وہ فارسی ایران ، عثمانی ترکی ، دہشت گرد قطر اور الاخوان المسلمون اور اس کی شاخیں ہیں اور یہ سب سے خطرناک ہیں ‘‘۔ ان کا کہنا تھا۔