ایران نے حمزہ بن لادن کو سعودی عرب کے بجائے افغانستان بھیج دیا
ایران نے القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کے ایک بیٹے اور ان کے ممکنہ جانشین حمزہ کو سعودی عرب کے حوالے کرنے کے بجائے افغانستان بھیج دیا ہے۔حمزہ تہران میں اپنی والدہ خیریہ صابر کے ساتھ مقیم تھے۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط نے بن لادن خاندان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’’ اسامہ بن لادن کے کئی بیٹے اپنی بیویوں کے ہمراہ ایران سے سعودی عرب جا چکے ہیں اور اس وقت وہ وہیں رہ رہے ہیں ‘‘۔
القاعدہ کے سابق سربراہ کے چوتھے بیٹے 37 سالہ عمر نے الشرق الاوسط کو بتایا کہ ان کی والدہ نجویٰ الغنم سے پانچ بھائی اور بہنیں تہران میں رہ رہے تھے۔انھوں نے ان کی تہران سے واپسی کے لیے کوشش کی تھیں اور ان کے نتیجے میں محمد ، بکر ، فاطمہ ، ایمن اور عثمان ایران سے واپس سعودی عرب جاچکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’’ سعودی عر ب کے اعلیٰ حکام کے روابط کے نتیجے میں ان کی آبائی وطن میں واپسی ممکن ہوئی تھی‘‘۔
عمر نے وضاحت کی ہے کہ اگر ایران ان کے بھائی حمزہ کو ملک چھوڑنے اور سعودی عرب یا قطر جانے کی اجازت دے دیتا تو تاریخ تبدیل ہو چکی ہوتی اور اس کا پیچھا بھی نہیں کیاجاتا۔
عمر نے اپنے بھائی حمزہ کی القاعدہ کے ایک رہ نما ابو محمد المصری کی بیٹی کے ساتھ شادی کی بھی تصدیق کی ہے۔انھوں نے گذشتہ چند روز کے دوران میں سامنے آنے والی ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حمزہ کی نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر نائن الیون طیارہ حملوں کے ایک ہائی جیکر محمد عطا کی بیٹی سے شادی ہوئی ہے۔
بعض میڈیا ذرائع نے یہ قیاس آرائی کی تھی کہ حمزہ کی مصری شہری اہلیہ کی عمر انیس ، بیس سال ہوسکتی ہے۔تاہم عمر بن اسامہ بن لادن نے وضاحت کی ہے کہ ان کے بھائی کی شادی نہ تو محمد عطا کی بیٹی سے ہوئی اور نہ محمد اسلامبولی کی بیٹی سے ہوئی ہے۔اسلامبولی کو امریکا نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔
محمد المصری اس وقت القاعدہ تنظیم میں نائب کمان دار ہیں ۔وہ امریکا کو 1998ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم حملوں کے الزام میں مطلوب ہیں ۔ وہ ایران میں رہتے رہے تھے اور انھیں یمن میں اغوا کیے گئے ایک ایرانی سفارت کار کے بدلے میں القاعدہ کے پانچ اور لیڈروں کے ساتھ رہا کیا گیا تھا۔