ایرانی عسکری کمانڈر کی "سمندر پار" حملوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے اعلی عسکری مشیر یحیی رحیم صفوی نے دھمکی دی ہے کہ "اگر ایران کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا تو وہ صرف زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے سرحد کے باہر جواب دینے پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ سمندر پار حملے بھی کرے گا"۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز ایک خطاب میں صفوی کا کہنا تھا کہ "ہم انقلاب کے دشمنوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایران چڑھائی کی تو ہم صرف سرحد کے باہر تک نہیں بلکہ سمندر پار بھی اُن کا تعاقب کر کے اُنہیں سزا دیں گے"۔

مغربی میڈیا کے نزدیک "سمندر پار" حملوں کی دھمکی کا مطلب یہ ہوا کہ ایرانی حکام بیرون ملک دھماکوں اور قاتلانہ حملوں کے ذریعے اپوزیشن کی شخصیات کے تعاقب کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق امریکی ویب سائٹ Washington Free Beacon کے مطابق صفوی کے بیان سے امریکا اور یورپ کے اندر ایران کی خفیہ کارروائیوں پر روشنی پڑتی ہے۔

مذکورہ ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ صفوی کا یہ بیان امریکا میں دو ایرانی باشندوں کی گرفتار کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان دونوں افراد پر سازش کرنے، ایرانی نظام کے لیے جاسوسی انجام دینے اور امریکا میں مختلف اہداف پر دہشت گرد حملے کرنے کی منصوبہ بندی کے الزامات ہیں۔

فرانس، بیلجیم اور جرمنی کے اداروں نے 30 جون کو ایک مشترکہ کارروائی کر کے پیرس کے نواحی علاقے میں ایرانی اپوزیشن کی کانفرنس میں بم دھماکے کے ذریعےحملے کو ناکام بنا دیا تھا۔ جرمنی نے اس منصوبے کے ماسٹر مائنڈ اسد اللہ اسدی کو گرفتار کر لیا جو آسٹریا میں ایرانی سفارت خانے میں سفارت کار کے فرائض انجام دے رہا تھا۔

ہالینڈ کی انٹیلی جنس نے بھی جولائی میں ہیگ میں ایرانی سفارت خانے کے دو سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان دونوں افراد پر الزام تھا کہ اُن کا تعلق ایرانی اپوزیشن کی دو شخصیات کے قتل کے معاملات سے ہے۔

ادھر امریکی عہدے داران خبردار کر چکے ہیں کہ ایرانی جاسوسی کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے اور تہران پورے خطّے اور دنیا بھر میں دہشت گرد حملے کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں