مہارات کے تبادلے کے لیے چینی ٹیلی ویژن اور MBC میں معاہدہ
سعودی عرب کے میڈیا گروپ "مڈل ایسٹ براڈکاسٹنگ کارپوریشن" ۔ ایم بی سی۔ اور چین کی "The National Radio and Television Administration" کے درمیان ایک مفاہمتی یاداشت منظور کی گئی ہے جس کامقصد فریقین کا روایتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں ایک دوسرے کی مہارتوں سے استفادہ کرنا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں MBC" اور چینی ٹیلی ویژن چینل فلم پروڈکشن کے حوالے سے ایک دوسرے کےتجربات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس کے علاوہ یاداشت سے انسانی وسائل کے شعبے کو بھی فروغ ملے گا۔ معاہدے کی ابتدائی مدت تین سال ہے تاہم اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
چینی میڈیا گروپ اور MBC" کےدرمیان یہ یاداشت ایم بی سی کے دبئی میں قائم "دبئی میڈیا سٹی" میں ہوئی۔ یاداشت کی منظوری کے موقع پر MBC" کے چیف ایگزیکٹو الشیخ ولید بن ابراہیم آل ابراہیم، جنرل سپر وائزر علی الحدیثی اور گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سام بارنیٹ سمیت کئی دوسرے سینیر عہدیدار موجود تھے۔
چین کی جانب سے یاداشت پر نائب وزیر اطلاعات گاوم جیامن نے دستخط کیےجب ان کے ہمراہ بھی متعدد اعلیٰ عہدیدار اور ابلاغیات کے مشیر موجود تھے۔
اس موقع پر MBC"کے چیئرمین الشیخ ولید بن ابراہیم آل ابراہیم نے کہا کہ ہم چین میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور دیگرعالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کرذرائع ابلاغ کے میدان میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ چینی ٹیلی ویژن کارپوریشن کے ساتھ معاہدے کے نتیجےمیں دونوں طرف کے ابلاغی ادارے ایک دوسرے کے تجربات اور مہارتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ریسرچ، جدید، ڈویلپمنٹ، کارکردگی اور ترقی میں اضافہ ہوگا۔
ان کامزید کہنا تھا کہ چینی ٹیلی ویژن کارپوریشن اور MBC" کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت روایتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں نئی جہتوں کو سامنے لانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میڈیا کے میدان میں ڈیجییٹل کے شعبے میں کافی گنجائش موجود ہے۔ کسی بھی ابلاغی ادارے کی ترقی کے لیے ڈیجیٹیل پلیٹ فارم ضروری ہے۔
مفاہمتی یاداشت کی تقریب سے خطاب میں چینی نائب وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں" MBC" کے ساتھ باہمی تعاون کا معاہدہ کرنے پر بہت خوشی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ چین کے اقتصادی ترقی کے منصوبے Belt and Road کا حصہ ہے اور ہم اس معاہدے سے نہ صرف بہت کچھ سیکھیں گے بلکہ چینی ٹیلی ویژن پلیٹ فارم کو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا تک وسعت دینے کا موقع بھی ملے گا۔