.

کم سن طالبات کے خلاف جنسی ہراس ، سوئس اسکالر طارق رمضان کے خلاف نیا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں مصری نژاد سوئس اسکالر اور پروفیسر طارق رمضان کی مشروط اور عارضی رہائی کے بعد دو ہفتے بھی نہ گزرے تھے کہ اسے ایک بار پھر جنسی ہراس کے نئے الزامات کا سامنا ہے۔

سوئس اسٹیٹ کونسل کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں 1984 سے 2004 کے درمیان ایک انٹرمیڈیٹ اسکول میں فرانسیسی کی تدریس کے دوران طارق نے اپنی بعض کم سن طالبات کو جنسی ہراس کا نشانہ بنایا۔ ان طالبات کی عمر 15 سے 18 برس کے درمیان تھی۔ فرانسیسی زبان کے سوئس ریڈیو "لیک" کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات دو سابق جج صاحبان کر رہے ہیں۔ انہوں نے 50 کے قریب افراد کے بیانات سنے جن میں 4 ایسی خواتین بھی ہیں جن کو ماضی میں طارق پڑھا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 56 سالہ طارق نے اس زمانے میں مذکورہ چاروں طالبات کو ورغلانے کی کوشش کی۔ ان میں ایک طالبہ نے جو اُس وقت 14 برس کی تھی طارق کی کوشش کو ناکام بنا دیا جب کہ بقیہ تین طالبات کے ساتھ وہ جنسی تعلقات قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ ان تین طالبات کی عمریں اُس وقت 15 سے 18 برس کے درمیان تھیں۔

بہت سے مبصرین کے نزدیک حالیہ سوئس رپورٹ کا فرانس میں جاری عدالتی کارروائی پر اثر پڑ سکتا ہے جہاں طارق کو دو خواتین کی عصمت دری کے حوالے سے فرد جرم کا سامنا ہے۔ طارق نے کچھ عرصہ قبل عصمت دری کے الزام سے انکار کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ یہ جنسی تعلقات ان خواتین کی مرضی سے قائم ہوئے تھے۔

فرانس کی عدلیہ نے تقریبا دو ہفتے قبل طارق رمضان کو 3 لاکھ یورو کی ضمانت کے عوض رہا کر دیا تھا۔ وہ مذکورہ دونوں خواتین کی عصمت دری کے الزام میں 9 ماہ سے زیر حراست تھا۔ رہائی کے ساتھ طارق کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا ہے۔ اسے فرانس سے باہر جانے اور الزام عائد کرنے والی خواتین اور مقدمے کے گواہان سے رابطے کی اجازت نہیں ہے۔ اس دوران طارق کے خلاف تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔