.

نریندرمودی مسلمانوں کو لبھانے کے لیےکوشاں،متنازع قانون کے خلاف احتجاج جاری

بھارت میں کوئی حراستی مرکز نہیں، ایسے مراکز سے متعلق تمام کہانیاں جھوٹ ہیں: نئی دہلی میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے دارالحکومت نئی دہلی میں اپنی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے زیر اہتمام ایک ریلی سے خطاب میں اس قانون کی حمایت پر زوردیا ہے اور مسلمانوں کو لبھانے کی کوشش کی ہے۔

نئی دہلی کی قانون ساز اسمبلی کے فروری میں انتخابات ہوں گے۔ ان کے لیے حکمراں بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے اور وزیراعظم نے اسی سلسلے میں ریلی سے خطاب کیا ہے۔انھوں نے مسلمانوں کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے کہ ’’وہ حقیقی بھارتی ہیں۔ جو مسلمان اس سرزمین کے بیٹے ہیں اور جن کے آباء واجداد بھارت ماتا کے بچے تھے، انھیں تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

انھوں نے حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس پر تشدد کے حالیہ واقعات کو نظر انداز کرنے اور ان کی مذمت نہ کر نے کا الزام عاید کیا ہے۔نریندر مودی نے کہا کہ’’ مخالفین یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں بھیج دیا جائے گا۔(ملک میں) کوئی حراستی مرکز نہیں، حراستی مراکز سے متعلق تمام کہانیاں جھوٹ ، جھوٹ اور جھوٹ ہیں۔‘‘

نریندر مودی اسی ماہ پارلیمان کے منظور کردہ شہریت کے ترمیمی بل ( کیب) کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں سے بالکل بھی متاثر دکھائی نہیں دیے اور انھوں نے الٹا اجتماع سے یہ کہا کہ وہ اس قانون کی منظوری پر پارلیمان کے منتخب ارکان کے احترام میں کھڑے ہوجائیں۔

مودی حکومت کے اس متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ وسیع ہوتا جارہا ہے اور جنوبی شہر حیدرآباد دکن میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔یہ احتجاجی مظاہرے نریندر مودی کے 2014ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد ان سے عوام کی ناراضی کا سب سے بڑا مظہر ہیں۔

ناقدین نے اس قانون کو بھارت کے سیکولرآئین سے متصادم اور اس کی بنیادی روح کے منافی قراردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت بھارت کے بیس کروڑ مسلمانوں کو ایسے اقدامات کے ذریعے دیوار سے لگا رہی ہے جبکہ نریندر مودی اس کو انسانی اظہاریہ قرار دے کر اس کا دفاع کررہے ہیں۔

شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف گذشتہ دو ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں پُرتشدد مظاہروں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور گذشتہ تین روز میں پندرہ افراد تشدد کے واقعات میں مارے گئے ہیں۔

اترپردیش میں نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کی حکومت ہے۔اس نے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو متاثرہ شہروں میں تعینات کردیا ہے اور ریاست میں انٹرنیٹ کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔بھارتی حکام نے دوسری ریاستوں میں مظاہروں سے متاثرہ شہروں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے یا اجتماعات پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

پولیس نے ریاست اترپردیش میں برطانوی دور کے قانون کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔بھارت کے دوسرے علاقوں میں بھی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اس قانون کا نفاذ کیا گیا ہے۔

پارلیمان کے منظورہ کردہ شہریت اس متنازع قانون کے تحت بھارت میں تین ہمسایہ ممالک سے 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت دے دی جائے گی لیکن اگر وہ مسلمان ہوں گے توانھیں یہ حق نہیں دیا جائے گا۔

اس متنازع قانون کے تحت بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندو ،عیسائی یا کسی اور اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اگر یہ ثابت کردیں کہ انھیں پڑوسی ممالک بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان میں ناروا سلوک کا سامنا تھا اور ان کے انسانی حقوق سلب کیے جارہے تھے تو انھیں بھارت کی شہریت مل جائے گی لیکن اس قانون کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوگا اور وہی اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

اس قانون کے نفاذ کے بعد بھارت کی مشرقی ریاست آسام میں شہریوں کی سرکاری فہرستوں میں سے قریباً بیس لاکھ افراد کے ناموں کو نکال دیا گیا ہے، ان میں قریباً نصف ہندو اور نصف مسلمان ہیں۔ وہ 1971ء سے پہلے بھارت میں اپنی شہریت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔وہ اب بےریاستی قرار پائے ہیں اور انھیں حراستی کیمپوں میں منتقل کردیا جائے گا۔