شہریت کے نئے قانون پرمعترض مظاہرین پاکستان چلےجائیں: بھارتی پولیس افسرکا انوکھا مشورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں ایک سینیر پولیس افسر نے شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو نیا مشورہ دیا ہے اور انھیں کہا ہے کہ اگر وہ اس نئے قانون پر معترض ہیں تو پھر وہ پاکستان چلے جائیں۔

انڈین ایکسپریس نے ہفتے کے روز ایک رپورٹ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت کے یہ سینیر پولیس افسر اترپردیش کے شہر میرٹھ میں احتجاجی مظاہرین کو یہ بھاشن دیتے سنے گئے ہیں اور ان کی یہ ویڈیو ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ہے۔یہ واقعہ 20 دسمبر کو میرٹھ شہر کے علاقہ لیسری گیٹ میں پیش آیا تھا۔اس روز شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس ویڈیو کلپ کے مطابق شہر کے سپرٹینڈنٹ پولیس ( ایس پی) اکلیش این سنگھ مظاہرین سے یہ کہہ رہے ہیں:’’ کہاں جاؤ گے ، اس گلی کو ٹھیک کردوں گا۔‘‘وہ چار مظاہرین کا ذکر کررہے تھے جن کا پولیس پیچھا کررہی تھی۔

پھر یہ پولیس افسر وہاں کھڑے تین افراد کو یہ کہتے سنے جاسکتے ہیں:’’ یہ جو کالی اور پیلی پٹی باندھے ہوئے ہیں، ان سے کہہ دو پاکستان چلے جاؤ،کھاؤ گے یہاں کا ، گاؤ گے کہیں اور کا؟ یہ گالی مجھے یاد ہوگئی ہے اور جب مجھے یاد ہوجاتی ہے تو میں نانی تک پہنچ جاتا ہوں۔‘‘

اس پولیس افسر کے ہمراہ دوسرے اہلکار بھی تھے۔ان صاحب کو تنگ گلی میں کھڑے تین افراد کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے:’’ اگر کچھ ہوا تو تمھیں اس کی قیمت چکانا ہوگی اور ہر گھر کے ہر فرد کو گرفتار کر لیا جائے گا۔‘‘

رپورٹ کے مطابق ایس پی سنگھ نے اپنے ان کلمات کا جواز یہ پیش کیا ہے:’’اب مسئلہ یہ ہے کہ سماج دشمن عناصر پاکستان نواز بیانات جاری کررہے ہیں۔‘‘بھارتی پولیس افسر نے مزید کہا:’’ ہم اس علاقے میں یہ دیکھنے آئے ہیں یہ تمام لوگ کیسے پاکستان نواز بیانات جاری کررہے ہیں۔جب ہم نفری کے ساتھ یہاں پہنچے تو یہ سب بھاگ کھڑے ہوئے ہیں۔ہم نے یہ دیکھا ہے کہ صرف تین چار لوگ ہی بگاڑ پیدا کررہے ہیں۔ہمیں مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنا ہوگی۔‘‘

بھارتی پارلیمان نے اسی ماہ کے اوائل میں شہریت کے اس متنازع قانون کو منظور کیا تھا۔اس کے تحت بھارت میں تین ہمسایہ ممالک سے 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کو بھارتی شہریت دے دی جائے گی لیکن اگر وہ مسلمان ہوں گے توانھیں یہ حق نہیں دیا جائے گا۔اس متنازع قانون کے تحت بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندو ،عیسائی یا کسی اور اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اگر یہ ثابت کردیں کہ انھیں پڑوسی ممالک بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان میں ناروا سلوک کا سامنا تھا اور ان کے انسانی حقوق سلب کیے جارہے تھے تو انھیں بھارت کی شہریت مل جائے گی لیکن اس قانون کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوگا اور وہی اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

ناقدین نے اس قانون کو بھارت کے سیکولرآئین سے متصادم اور اس کی بنیادی روح کے منافی قراردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی حکومت ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کو ایسے اقدامات کے ذریعے دیوار سے لگا رہی ہے جبکہ نریندر مودی اس کو انسانی اظہاریہ قرار دے کر اس کا دفاع کررہے ہیں۔

شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف گذشتہ تین ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں پُرتشدد مظاہروں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس ریاست میں 19 افراد تشدد کے واقعات میں مارے گئے ہیں۔

اترپردیش میں نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کی حکومت ہے۔اس نے احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کو متاثرہ شہروں میں تعینات کررکھا ہے۔اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیاناتھ نے مظاہرین کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کو جائز قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے ہر شخص کو ’’صدمے‘‘ سے دوچار کرکے خاموش کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں