.

بھارت : کرونا لاک ڈاؤن میں دیہی غریبوں کو کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کے باوجود حکومت نے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں افراد کو آیندہ ہفتے سے کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے ملک کی زرعی معیشت پرانتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

بھارت دنیا میں آبادی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے اور اس کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے مارچ کے آخر میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی تھی جس سے دیہی تارک وطن ورکر اور دوسرے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام کاروبار ، دکانیں اور صنعتیں بند ہیں اور سڑکیں سنسان ہیں جبکہ بے روزگار ہونے والے تارک وطن مزدور لمبا سفر کر کے اپنے آبائی علاقوں کو واپس نہیں جاسکے تھے اور اس وقت شہروں میں پُرہجوم پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

اس وقت گندم کی کٹائی کا موسم ہے اور کاشت کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ ان کی فصلوں کی بٹائی اور پھر نئی فصل کی بوائی میں تاخیر ہوسکتی ہے اور اس سے ملک بھر میں زرعی اجناس کی منڈیوں میں بروقت دستیابی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

بھارت کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ’’عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے منتخبہ اضافی سرگرمیوں کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دیہی اور زرعی ترقی کے لیے اہم معیشت کے شعبوں کو بھی نظرثانی شدہ رہ نما اصولوں کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔‘‘

ان نئی ہدایات کا 20 اپریل سے اطلاق ہوگا۔ان کے تحت زراعت اور متعلقہ شعبوں بہ شمول غلہ منڈیوں ، سبزی منڈیوں ، باربرداری ،مرمت کی دکانوں اور بھٹہ خشت کو دوبار کام کی اجازت دے دی جائے گی۔اس دوران میں سخت اقدامات جاری رہیں گے اور تمام افراد چہرے پر حفاظتی ماسک پہننے اور دوسری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے پابند ہوں گے۔

بعض فیکٹریاں بھی دوبارہ کھول دی جائیں گی لیکن انھیں محدود عملہ کے ساتھ کام کی اجازت ہوگی اور ان کے اوقات کار بھی معمول سے کم ہوں گے۔فیکٹری مالکان ورکروں کی اپنے اپنے صنعتی پلانٹس تک آمد ورفت کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں گے۔ تیل صاف کرنے کے کارخانوں ،کوئلے کی کانوں اور بعض تعمیراتی صنعتوں کو بھی کام بحال کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے صنعتی اور دیہی شعبے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا قریباً 40 فی صد ہیں۔ بھارت کی قریباً 70 فی صد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔