افریقا میں کرونا وائرس کو قابو کرنا مشکل معرکہ ہے: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک نمایاں عہدے دار کا کہنا ہے کہ دنیا بالخصوص افریقا کے ممالک کو کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں نا امید نہیں ہونا چاہیے۔
ادارے میں ہنگامی پروگرام کی ٹیکنالوجی لیڈر ماریا وان کیرخوف کا کہنا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں متعدد مالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ "اس پر روک لگانا ممکن ہے۔ پر یہ ایک مشکل معرکہ ہو گا"۔
ماریا کے مطابق بہت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں مزید لوگوں کے ٹیسٹ، علاج کے مراکز کے قیام اور جسمانی دوری کے اقدامات کے علاوہ اُن مقامات پر ہاتھ دھونے کے اسٹیشنوں کی تیاری شامل ہے جہاں بہتا ہوا پانی نہیں پایا جاتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین میں کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے اب تک افریقا میں ایک ہزار افراد اس وبائی مرض کے سبب اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
براعظم افریقا میں کرونا سے سب سے زیادہ 364 اموات الجزائر میں ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے بعد مصر میں 205، مراکش میں 135 اور جنوبی افریقا میں 50 افراد موت کا شکار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار جمعے کی شام تک کے ہیں۔ افریقا میں اب تک کرونا کے 19343 کیس سامنے آ چکے ہیں۔
ایسا نظر آ رہا ہے کہ افریقا باقی دنیا کے مقابلے میں کرونا سے کافی کم متاثر ہوا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا حقیقی حجم زیادہ بڑا ہو سکتا ہے بالخصوص جب کہ ٹیسٹ کرنے کی قلت پائی گئی ہے۔
-
ایرانی فوج کا 160 اہل کاروں کے کرونا سے متاثر ہونے کا اعلان
ایرانی فوج کے رابطہ کار معاون حبیب اللہ سیاری کے مطابق 160 فوجی اہل کار کرونا ...
مشرق وسطی -
کرونا کے علاج اور بیماری کے پھیلائو کے بارے میں چند غلط فہمیاں
کسی بھی عالمی وباء کی طرح کرونا وائرس کے سامنے آنے کے بعد اسے منسلک من گھڑت ...
بين الاقوامى -
کرونا کے جلو میں نماز تراویح اور عید گھروں میں ادا کی جائے: مفتی سعودی عرب
سعودی عرب کے مفتی عام الشیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے جمعہ کے روز اس امر کا اعلان کیا ...
بين الاقوامى