حجاجِ کرام کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کے بعد مزدلفہ میں رات کا پڑاؤ!
اس مرتبہ فریضۂ حج ادا کرنے والے فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ کے نواح میں واقع میدانِ عرفات میں رکنِ اعظم وقوفِ عرفہ کی تکمیل کے بعد جمعرات کی شام مزدلفہ کی جانب روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کررہے ہیں اور پھر کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے۔
قبل ازیں انھوں نے میدانِ عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں خطبۂ حج سماعت کیا ، ظہر اور عصر کی باجماعت اکٹھے نمازیں ادا کیں اور نویں ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے تک وہیں قیام کیا۔
Watch: Mask-clad pilgrims pray at Nimra Mosque in the holy city of #Mecca on the second day of this year’s #Hajj pilgrimage, in which special #coronavirus measures were taken, before they set off on a climb to the summit of #SaudiArabia's Mount Arafat. https://t.co/bsuyX8dLEb pic.twitter.com/eXP71l4TGW
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 30, 2020
مزدلفہ میں قیام کے دوران میں حجاج کرام کنکریاں چُنیں گے اور جمعہ کو علی الصباح فجر کی نماز کے بعد انھیں سعودی حکومت کی مہیا کردہ خصوصی بسوں کے ذریعے گروپوں کی شکل میں جمرات (منیٰ) لے جایا جائے گا جہاں وہ تینوں شیطانوں کو باری باری کنکریاں ماریں گے اور دعائیں کریں گے۔ اس کے بعد جانور قربان کریں گے۔ یہ عمل تین روز تک جاری رہے گا۔اس دوران میں حجاج کرام اپنے سر منڈوائیں گے اور کعبۃ اللہ کا آخری طواف ’’طواف زیارہ‘‘کریں گے اور یوں ان کے مناسکِ حج کی تکمیل ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے حج انفراسٹرکچر کے تحت گذشتہ برسوں کے دوران میں عرفات سے مزدلفہ اور وہاں سے منیٰ تک مخصوص راستے اور شاہراہیں بنا دی ہیں تاکہ حجاج کرام بآسانی پیدل یا گاڑیوں پر سفر کرسکیں۔مگراس مرتبہ حجاج کرام نے یہ سفر کرونا وائرس کی وَبا سے بچنے کے لیے خصوصی بسوں کے ذریعے طے کیا ہے۔
حجاج کرام کرونا وائرس سے بچنے کے لیے سعودی وزارت حج وعمرہ کی رہ نما ہدایات کی مکمل پابندی کررہے ہیں۔ بالخصوص وہ سماجی فاصلے کے ضابطے کی بڑے منظم انداز میں پاسداری کررہے ہیں اور وہ مناسک کی ادائی کے وقت ایک دوسرے سے دو میٹر کا فاصلہ رکھ رہے ہیں۔
کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے حجاج کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے،ہر گروپ بیس ، بیس افراد پر مشتمل ہے اور ان کا ایک گائیڈ مقرر ہے۔ وہ اس کی معیت ہی میں مناسک والی جگہوں پر جارہے ہیں۔
سعودی عرب نے اس سال دنیا بھر میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وَبا کے پیش نظر محدود پیمانے پر حج کا اعلان کیا تھا۔ سعودی حکام نے عازمین حج کا انتخاب ایک خودکار طریقے سے کیا تھا اور منتخب حاجیوں میں سعودی عرب میں مقیم غیرملکی تارکینِ وطن کی تعداد 70 فی صد ہے اور 30 فی صد سعودی شہری ہیں۔انھیں مناسکِ حج کے آغاز سے قبل مکہ مکرمہ میں ایک مخصوص ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔وزارتِ حج و عمرہ نے عازمین کی صحت کے تحفظ کےلیے اس ہوٹل میں سخت احتیاطی تدابیر کا نفاذ کیا ہے۔ہر ایک عازم کو الگ الگ کمرا دیا گیا اور ہاتھوں کی صفائی کے لیے الگ سینی ٹائزر مہیا کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ان منتخب عازمین حج کی عمریں 20 اور 50 سال کے درمیان ہیں۔ان کے انتخاب کے عمل میں ان غیر سعودیوں کو ترجیح دی گئی ہے جو پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا تھے اور نہ انھوں نے ماضی میں حج کیا تھا۔منتخب سعودی شہریوں میں محکمہ صحت کے ان ورکروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ترجیح دی گئی ہے جو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں خود بھی اس مہلک وَبا کا شکار ہوگئے تھے مگر بعد میں صحت یاب ہوچکے ہیں۔
سرکاری طور پر حج کے لیے ان کے انتخاب کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف اور انھیں خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور یہ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔گذشتہ سال پچیس لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید نے فریضۂ حج ادا کیا تھا۔
جمعہ کو دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں عیدالاضحیٰ منائی جارہی ہے جبکہ پاکستان اور بعض دوسرے ممالک میں ہفتے کے روز عید الاضحیٰ منائی جائے گی۔اس مرتبہ کرونا کی وبا سے بچنے کے لیے بیشتر مسلم ممالک نے عید کے بڑے اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عاید کر رکھی ہے اور حکومتوں نے لوگوں سے ہجوم والی جگہوں پر نہ جانے کی اپیل کی ہے۔