امریکی ایوانِ نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی نے سرکاری ذمے داران پر زور دیا ہے کہ وہ روایتی سرمایہ داری نظام کی بہتری کا سلسلہ جاری رکھیں۔ امریکا کے موجودہ اقتصادی نظام کے نتیجے میں عدم مساوات پھیلا ہے۔
وہ ہفتے کے روز ایک تحقیقاتی مرکز کے ساتھ ایک ورچوئل ایونٹ میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکا میں ہمارا اقتصادی نظام سرمایہ داری پر مبنی ہے۔ تاہم یہ معیشت کے اس طرح سے کام نہیں آیا جیسا اسے آنا چاہیے۔ ہم اس سے دور نہیں ہونا چاہتے تاہم اس کی بہتری اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے کام آئے"۔
Join @RobinNiblett and me at @ChathamHouse in London for a moderated conversation. https://t.co/r7uBXuZvP2
— Nancy Pelosi (@SpeakerPelosi) September 17, 2021
رواں سال جون میں خاتون اسپیکر نے ایک منتخب کمیٹی کے ارکان کا تقرر کیا تھا۔ کمیٹی کا مقصد اقتصادی اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینا ہے۔
پلوسی نے 35 کھرب ڈالر مالیت کے بجٹ کے تصفیے سے متعلق قانونی بل کے حوالے سے ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے بیچ جاری ٹکراؤ پر بھی روشنی ڈالی۔ صدر جو بائیڈن نے اس قانون کو امریکی معیشت کی تشکیل نو کی کوشش قرار دیا ہے۔
بائیڈن اور دیگر سینئر ڈیموکریٹس نے کمپنیوں اور زیادہ دولت مند امریکیوں پر ٹیکسوں کو بڑھانے پر زور دیا ہے تا کہ سماجی پروگراموں کو سپورٹ کیا جا سکے۔ البتہ ریپبلکنز اور بعض ڈیموکریٹس نے اس قانون کے بل کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کے سبب کرونا کی وبا سے متاثرہ کمپنیوں کی اقتصادی بحالی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
-
گذشتہ برس منجمد دہشت گردی کی مالی رقوم میں حزب اللہ سرفہرست رہی : امریکی وزارت خزانہ
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق دہشت گردی کی سرگرمیوں اور اس کی سرپرستی کے سبب 2020ء ...
بين الاقوامى -
امریکی وزارت خارجہ کی سعودی عرب کے ساتھ 500 ملین ڈالر کے دفاعی معاہدے کی منظوری
معاہدہ منظوری کے لئے کانگریس کے سامنے پیش
بين الاقوامى -
امریکا سے تعلقات میں بگاڑ پر فرانس نے واشنگٹن میں تقریب منسوخ کر دی
آکوس AUKUS سکیورٹی اتحاد سے انڈوپیسفک تعلقات میں نیا موڑ
بين الاقوامى