.

امریکا فائزرکی کووِڈ-19 ویکسین کی اضافی خوراک سے متعلق اسرائیلی فوج کے ڈیٹا کا منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں محکمہ صحت کے حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ اسرائیل کے فوجی اہلکاروں کے اعدادو شمار سے فائزر۔بائیو این ٹیک کی کرونا وائرس کی اضافی خوراک لگوانے والے نوجوان افراد میں دل کے پٹھوں کی سوزش کے خطرے کو واضح طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔امریکی ریگولیٹرزکے لیے بھی یہ ایک ممکنہ عنصر ہے کیونکہ وہ ویکسین کی اضافی تقویتی خوراک لگانے کی مکمل منظوری دینے پرغورکر رہے ہیں۔

مایوکارڈائٹس نامی ایک حالت کو شاذونادر ہی فائزر۔بائیو این ٹیک اور ماڈرنا کی تیارکردہ ایم آر این اے ویکسین کے دوخوراک کے طور پراستعمال سے جوڑاگیا ہے، لیکن امریکا کے صحت حکام زیادہ ترکم عمر مردوں میں اس خطرے کو بہتر طورپرسمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

صدرجو بائیڈن کے مشیر طب اورامریکا کے متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹرانتھونی فاؤچی کا ایک ٹیلی فون انٹرویو میں کہنا ہے کہ اصل سوال جس کا ہم نے ابھی تک جواب نہیں دیاہے،وہ مایوکارڈائٹس کے مقابلے میں نوجوانوں میں ایم آر این اےویکسین کے تحفظ سے متعلق اعدادوشمار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیلیوں کے پاس نسبتاً جلد ہی یہ اعداد و شمار دستیاب ہوں گے کیونکہ وہ 12 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو ویکسین کی اضافی خوراک لگا رہے ہیں اور ان میں ان کے فوجی بھی شامل ہیں۔

امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (خوراک اورادویہ انتظامیہ) نے اگست میں 16 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کوفائزر۔بائیو این ٹیک کی ویکسین لگانے کی منظوری دی تھی لیکن ایجنسی نے ابھی تک اس کی تقویتی خوراک کے استعمال کی مکمل منظوری نہیں دی ہے۔البتہ اس کے بجائے، ایف ڈی اے نے فائزر کی ہنگامی حالت میں تیسری خوراک لگانے کی اجازت دی تھی مگر مکمل حیاتیاتی لائسنس درخواست (بی ایل اے) کی مکمل منظوری ابھی تک زیرالتوا ہے۔

ایف ڈی اے کے مشیروں نے اضافی خوراک کے حوالے سے فائزر کی درخواست کے جائزے میں خاص طور پر نوجوان افراد میں مایوکارڈائٹس سے متعلق ڈیٹا کی کمی کا ذکر کیا تھا۔

ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے کہ’’ اسرائیل کے فوجی اہلکاروں کے اعدادوشمار سے ایم آر این اے ویکسین کے تحفظ سے متعلق معلومات میں فرق کو دور کرنے میں مدد ملنی چاہیے۔ہم توقع کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے اعداد وشمار خاص طور پرمایوکارڈائٹس کے تناظر میں نوجوانوں میں ویکسین کی حفاظت پرروشنی ڈالیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے وقت کے ساتھ ویکسین کی اثرپذیری میں کمی کے شواہد کے پیش نظر تمام امریکیوں کو ایک اضافی خوراک لگانے کے لیے ایک وسیع مہم چلانے کی اجازت طلب کی تھی۔

ایف ڈی اے اور امریکا کے مرکزبرائے انسداد امراض اور کنٹرول نے ستمبر میں سفارش کی تھی کہ 65 سال یا اس سے زیادہ عمرکے امریکیوں، بنیادی طبی حالات کے حامل بالغوں اور زیادہ خطرے کا کام کرنے والے افراد کو فائزر۔بائیو این ٹیک کی ویکسین کی اضافی خوراک لگائی جائے۔

فاؤچی کا کہنا ہے کہ ایم آر این اے ویکسین کی چند ہفتے کے وقفے میں ابتدائی دو خوراکیں لگائی جاتی ہیں اور اس کے چند ماہ کے بعد اضافی خوراک لگائی جائے گی۔

جون میں ایف ڈی اے نے نوعمروں اور نوجوان بالغوں میں مایوکارڈائٹس کے اکادکا کیسوں کے بارے میں فائزر۔بائیو این ٹیک اور ماڈرنا ویکسین کے لیبل میں انتباہ شامل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کے قومی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں ملک میں طبی خدمات مہیا کرنے والے چار اداروں کے اعداد و شمار شامل ہیں۔یہی ادارے ویکسین لگانے کا انتظام کرتے ہیں۔اس کے علاوہ فوج سمیت دیگر اداروں کے اعدادوشمار بھی اس ڈیٹابیس میں شامل ہیں۔

ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ امریکی حکام فوجیوں سے متعلق ویکسی نیشن ڈیٹا کے بارے میں اسرائیلی وزارت صحت کی پیروی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ وزارت باقاعدگی سے اعدادوشمار کا تجزیہ کرتی ہے اور اس نے ویکسین کی اثرپذیری اورحفاظت کے بارے میں اپنے نتائج ایف ڈی اے جیسے اداروں کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ تاہم اسرائیل کی وزارت صحت کی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ فوجی اہلکاروں کو اضافی خوراک لگانے سے متعلق کسی مخصوص تحقیقی مطالعے سے لاعلم ہیں۔