ایران کے وسطی شہراصفہان میں پانی کی قلّت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز نے 60 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس نے پولیس کے خصوصی یونٹوں کے سربراہ حسن کرامی کے حوالے سے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جمعہ کی بدامنی میں ملوّث67 ’’اہم ایجنٹوں اور محرکین‘‘کو اب تک گرفتار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی اصفہان میں ان مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جو حکومت کےآبی انتظام اور پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
کچھ ویڈیوزمیں بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے دریائے زیندھرود کے خشک حصے میں مظاہرین پرلاٹھیوں سے حملہ کیا اورانھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کے گولے چلائے ہیں۔
کرامی نے اصفہان میں ’’انقلاب مخالف عناصر‘‘کوتشددکا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔واضح رہے کہ ایرانی حکام اسلامی جمہوریہ کے مخالف گروپوں کے لیے’’انقلاب مخالف‘‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
اوسلو میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایران ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے اصفہان میں مظاہروں میں شرکت پر120 سے زیادہ افراد کو گرفتارکیا ہے۔
Watch: Protests continue in some parts of #Isfahan including at the Simin Intersection at the center of the Iranian city, where protesters chanted "Death to the Dictator."https://t.co/L8fm4pJZgf pic.twitter.com/0dMUqF3Wgd
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) November 27, 2021
سوشل میڈیا پرزیرگردش فوٹیج میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی رات اصفہان کے کچھ علاقوں میں مظاہرے جاری تھے اور مظاہرین ’’مرگ برآمر‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔واضح رہے کہ ایرانی مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کوایک آمر قراردیتے ہیں اور ان ہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ’’مرگ برآمر‘‘کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔
اصفہان میں بہنے والا مشہور دریا زیندھرود اب خشک سالی اور بدانتظامی کی وجہ سے سوکھ چکا ہے، گذشتہ دو ہفتے کے دوران میں کسانوں کی قیادت میں حکومت کی آبی انتظام کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔
تاہم ایران کے سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہےکہ کم بارشوں کی وجہ سے اصفہان اورملک کے دیگرمقامات پر پانی کی قلّت پیدا ہوئی ہے۔جولائی میں جنوب مغربی صوبہ خوزستان میں بھی پانی کی قلت پرپُرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے۔