آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں کل پیر کے روز ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کے ساتویں دور کے آغاز ہو گیا۔ اس حوالے سے آج منگل کے روز ایران کی سخت گیر روش سامنے آئی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی (ارنا) کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے باور کرایا ہے کہ ویانا میں تہران کی مذاکراتی ٹیم کی توجہ پابندیوں کے اٹھائے جانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ ایران جوہری معاہدے میں غیر موجود کسی امر کی پاسداری کا ارادہ نہیں کرے گا۔
The resumption of the #ViennaTalks is quite successful. At the very beginning of the seventh round #JCPOA participants decided to continue without delay the drafting process in two working groups- on sanctions lifting and nuclear issues. This work starts immediately.
— Mikhail Ulyanov (@Amb_Ulyanov) November 30, 2021
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت سنجیدہ ارادے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے۔ اگر دیگر فریق وقت ضائع کرنے کے بجائے پابندیاں اٹھانے کے لیے حسن نیت سے آئے ہیں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذاکرات درست سمت میں جائیں گے۔
دوسری جانب ویانا میں روس کے مندوب میخائیل اولیانوف کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے میں شریک فریقوں نے پابندیاں اٹھانے اور جوہری معاملات کے حوالے سے دو ورکنگ گروپوں میں بنا کسی تاخیر کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹویٹر پر اپنے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بات چیت بڑی حد تک کامیاب ہے.
اس سے قبل اولیانوف نے باور کرایا تھا کہ ایران اور مغربی فریقوں کے بیچ کئی نکات پر اب بھی بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم پیر کے روز امریکی خصوصی ایلچی روبرٹ میلی کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے واضح ہو گیا ہے کہ تمام فریق بنا استثنا ایک مثبت نتیجہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران نے پابندیاں اٹھائے جانے کے معاملے کو مذاکرات کی میز پر واپسی کا بنیادی ہدف بنایا ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکا یہ بات کئی بار دہرا چکا ہے کہ بات چیت کا ہدف ایران کے جوہری معاہدے میں تہران کی واپسی اور معاہدے کی شقوں کی پاسداری یقینی بنانا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل (2021) سے اب تک ویانا بات چیت کے 6 ادوار منعقد ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ جون میں ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل رک گیا تھا۔
-
ایران خطےمیں کشیدگی پھیلانے سے باز آئے:سعودی عرب
اقوام متحدہ میں مملکت سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر عبداللہ بن یحیی المعلمی نے کہا ...
مشرق وسطی -
’سعودی عرب اس دہائی کے آخر تک دنیا کا تیسرا بڑا گیس پروڈیوسر بن جائے گا‘
سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’آرامکو‘ کے صدر اور سی ای او امین ناصر نے توقع ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب: "فارمولا 1" ریس میں حصہ لینے والوں کی آمد اور استقبال
سعودی عرب میں تین سے پانچ دسمبر تک شروع ہونے والی فارمولا ون ریس کی تیاری کے لیے ...
مشرق وسطی