اتوار کو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے یمن کے بحران کے بارے میں ایک جامع بریفنگ میں۔ اس بریفنگ میں یمن میں لبنانی دہشت گرد حزب اللہ کے ملوث ہونے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے لیے ہوائی اڈے کے استعمال کے ثبوت پیش کیے گئے۔
العميد المالكي: ميليشيا الحوثي هددت الملاحة البحرية بأكثر من ٢٤٧ لغما بحريا
— العربية (@AlArabiya) December 26, 2021
#العربية pic.twitter.com/VzkEHpmrqd
عرب اتحاد نے حزب اللہ کے ارکان کی تصاویر دکھائیں جو حوثی ملیشیا کو ڈرون حملوں کی تربیت دے رہے تھے۔ اتحاد نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو سعودی عرب اور یمن میں شہریوں پر ہونے والے حملوں میں براہ راست ذمہ دار قرار دیا۔
العميد المالكي: حديث #ميليشيا_الحوثي عن حصار لـ #الحديدة غير صحيح #العربية pic.twitter.com/1iA6d4UH3w
— العربية (@AlArabiya) December 26, 2021
یمن میں لبنانی حزب اللہ کی مداخلت حیران کن نہیں ہے۔ گذشتہ برسوں میں حزب اللہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی حمایت سے حوثی ملیشیا کو تربیت دینے کے لیے متعدد ماہرین بھیجے۔ عرب اتحاد نے بریفنگ کے دوران حزب اللہ کے ماہرین کو حوثی عناصر کی تربیت کرتے اور انہیں ڈرون طیاروں کی تربیت دیتے دکھایا گیا ہے۔
العميد تركي المالكي: #ميليشيا_الحوثي تبنت الفكر الطائفي من #إيران و الحرب في #اليمن فكرية اجتماعية وطائفية كما هو الحال في #لبنانhttps://t.co/D2JNuGYTGO
— العربية (@AlArabiya) December 26, 2021
عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے اتوار کو پریس کانفرنس میں کہا کہ حوثیوں کے پاس یمن میں سیاسی حل کا حصہ بننے کا فیصلہ نہیں ہے۔
المالکی نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کی دہشت گرد تنظیم نے خطے اور دنیا میں تباہی پھیلا رکھی ہے اور یہ سعودی عرب اور یمن میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ دار ہے۔
المالکی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی حکومت خطے میں اسلحے کی سرپرستی کرتی ہے اور تباہی و بربادی کر رہی ہے۔ حوثی ملیشیا نے ایران سے فرقہ وارانہ نظریہ اپنایا ہے۔
المالکی نے عراق، شام اور لبنان میں فرقہ وارانہ سوچ کو ہوا دینے میں تہران کے کردار کے بارے میں بھی بات کی۔
اتحاد کے ترجمان نے مزید کہا کہ لبنان کی طرح یمن میں جنگ نظریاتی، سماجی اور فرقہ وارانہ نوعیت کی ہے۔
اپنی پریس کانفرنس میں المکی نے اس بات پر زور دیا کہ یمن میں سیاسی حل ہی بہترین حل ہے۔ حوثی ملیشیا نے بحران کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی تمام کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
العميد المالكي: ١٠٠ زورق تم إطلاقها من جانب ميليشيا الحوثي ودمرها التحالف
— العربية (@AlArabiya) December 26, 2021
#العربية pic.twitter.com/apVrsTR3ne
ترجمان نے حوثی ملیشیا پر تعلق میں کمی کے معاہدے سے فائدہ اٹھانے اور اپنی افواج کو کئی محاذوں پر منتقل کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد چوبیس گھنٹے حوثی ملیشیا کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے۔
المالکی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مآرب کو کنٹرول کرنے کی کوشش سے 30 لاکھ یمنیوں کو خطرہ لاحق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے لیے ایرانی سفیر حسن ایرلو یمن میں فوجی کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور حزب اللہ کے ماہرین کی شمولیت کے بارے میں المالکی نے تبصرہ کرتے ہوئے ۔ہم معاف کرتے ہیں، در گذر کرتے ہیں۔
المالکی نے حوثیوں کو دھمکی دی کہ ہمیں حوثی رہ نماؤں کے ٹھکانے کا پتہ ہے اور انہیں آخری بار خبردار کیا ہے۔ سال کے آغاز سے اب تک 30,000 سے زیادہ حوثی مارے جا چکے ہیں۔
العميد المالكي: #السعودية قدمت مبادرة بشأن الأزمة في #اليمن حظيت بترحيب المجتمع الدولي
— العربية (@AlArabiya) December 26, 2021
#العربية pic.twitter.com/ID59c6NUrY
حوثیوں سے نیویگیشن کو خطرہ
نیوی گیشن کو محفوظ بنانے کے بارے میں المالکی نے مزید کہا کہ اتحاد کی کوششوں نے بحیرہ احمر میں نیویگیشن کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا نے صنعا کے ہوائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں کے لانچنگ پوائنٹ کے طور پراستعمال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے100 بمبار کشتیاں چلائی تھیں اور انہیں اتحاد نے تباہ کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے 247 سے زیادہ سمندری بارودی سرنگوں سے میری ٹائم نیویگیشن کو خطرے سے دوچار کیا ہے۔
المالکی نے ایسی تصاویر دکھائیں جو ثابت کرتی ہیں کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے صنعا کے ہوائی اڈے کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی حوثیوں کو صنعا کے ہوائی اڈے سے بیلسٹک میزائل داغنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل المالکی نے کہا کہ صنعاء کے ہوائی اڈے پر بمباری سے ڈرون کے لیے ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا۔