بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں حکام نے منگل کے روز اسکول بند کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ فیصلہ ایک تعلیمی ادارے میں ہندتوا کے پیروکارانتہا پسند ہندوطلبہ کے ایک باحجاب مسلم طالبہ کو ہراساں کرنے کے واقعے کے بعد کیا گیا ہے۔
ریاست میں اسکولوں میں مسلم طالبات کے سرپوش اوڑھنے پر پابندی کے خلاف احتجاج میں شدت آئی ہے اور مسلم طلبہ وطالبات حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کررہے ہیں۔کرناٹک میں اقلیتی مسلم برادری نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے خلاف وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت اکثریتی آبادی کے ظلم وستم میں اضافہ ہو رہا ہے۔
منگل کے روز تازہ مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے حکومت کے زیرانتظام ایک کیمپس میں ہجوم کومنتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کا استعمال کیا ہے جبکہ مختلف قصبوں کے اسکولوں میں پولیس کی بھاری نفری دیکھی گئی ہے۔
کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسواراج بوممئی نے ریاست کے تمام ہائی اسکولوں کو تین دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’میں تمام طلبہ، اساتذہ اور اسکولوں اور کالجوں کی انتظامیہ سے امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی اپیل کرتا ہوں‘‘۔
بھارت کی اس جنوبی ریاست میں سرکارکے زیرانتظام ہائی اسکولوں میں طالبات کو گذشتہ ماہ حجاب نہ پہننے کو کہا گیا تھا۔اس فرمان کی بازگشت ریاست کے دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی جلد ہی سنی گئی اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔
اس احتجاج میں ساحلی شہر اوڈوپی میں واقع مہاتما گاندھی میموریل کالج میں زیرتعلیم مسلم طالبہ مسکان کے ساتھ پیش آئے واقعے کے بعد شدت آئی ہے۔وہ جب منگل کے روز اپنے کالج میں کلاس لینے کے لیے آئی توکالج کے ہندولڑکوں نے اسے دیکھ کرنعرے بازی شروع کردی تھی۔اس کے ردعمل میں اس باحجاب نہتی لڑکی نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ٹویٹر پراس واقعہ کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے اور انسانی حقوق کے علمبردار کارکنان نے مسلم طالبہ کو ہراساں کرنے کی مذمت کی ہے۔
40-50 Sanghi goons heckling, mobbing, jeering and slogan-shouting at a lone woman while she walked from the parking lot to her class, and the young men believing that this is an act of bravado. This is what BJP has done to India.pic.twitter.com/YvoDKbho0Q
— Pratik Sinha (@free_thinker) February 8, 2022
اس واقعہ کے بعد تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کی مذمت کرنے والے مسلم طلبہ وطالبات اور انتہاپسند ہندوطلبہ کے درمیان تصادم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مسلم طالبات کا کہنا ہے کہ ان کے ہم جماعتوں نے ان کی تعلیم میں خلل ڈالا ہے۔
اوڈوپی میں مہاتما گاندھی میموریل کالج کی نوعمرطالبہ عائشہ کا کہنا تھا کہ ’’اب اچانک وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو حجاب نہیں پہننا چاہیے۔ وہ اب ایسا کیوں کَہ رہے ہیں‘‘۔عائشہ نے بتایا کہ ایک ٹیچر نے حجاب پہننے پر اسے کیمسٹری کے امتحان میں شرکت سے روک دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی مذہب کے خلاف نہیں ،ہم کسی کے خلاف احتجاج نہیں کررہے ہیں بلکہ ہم توصرف اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔
بھگوا شال پہنے ہندو لڑکوں کے ہجوم کے درمیان کھڑے طالب علم امرت نے بتایا کہ اس تنازع نے انھیں غیر منصفانہ طور پرکلاس میں شرکت سے روک دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’مسلم طالبات سے حجاب نہ پہننے کی درخواست کی گئی تھی لیکن آج انھوں نے حجاب پہن رکھا ہے۔وہ ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں‘‘۔
کرناٹک کی اعلیٰ عدالت نے منگل کو حجاب پر پابندی کی قانونی حیثیت کے خلاف دائرکردہ درخواست کی سماعت شروع کی ہے لیکن اس نے کوئی فیصلہ جاری کرنے سے پہلے سماعت ملتوی کردی ہے۔اس درخواست میں حکومت کے پابندی کے فیصلے کو قانونی طور پرچیلنج کیا گیا ہے۔
ریاست کرناٹک میں وزیراعظم نریندرمودی کی دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی ہی کی حکومت ہے۔حکمران جماعت کے کئی ممتاز ارکان مسلم طالبات کے حجاب یا سرپوش اوڑھنے پرپابندی کی حمایت کررہے ہیں۔
بھارتی حکومت کے ناقدین کاکہنا ہے کہ 2014ء میں نریندر مودی کے بہ طور وزیراعظم انتخاب نے سخت گیرہندو گروہوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کیونکہ وہ بھارت کو ہندوقوم کے ملک کے طور پر دیکھتے ہیں اور20 کروڑ کی اقلیتی مسلم برادری کی قیمت پراس کی سیکولربنیادوں کو کمزورکرنے کے خواہاں ہیں۔