روس اور یوکرین

روس کی یوکرین میں جنگ؛میڈیاپرخبروں میں ’حملہ اور چڑھائی‘کےالفاظ کےاستعمال پرپابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روس کے ابلاغیات کے ریگولیٹر نے ہفتے کے روز ذرائع ابلاغ کو یوکرین پرماسکو کے حملے کو ’’چڑھائی اور جارحیت یا اعلان جنگ ‘‘قرار دینے والی اطلاعات کو شائع اور نشر نہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ایسا کرنے والے میڈیا اداروں پرجرمانہ عاید کرنے کا حکم دیا ہے۔

میڈیا ریگولیٹرروسکومنڈزور نے ٹیلی ویژن چینل دوژد اور ملک کے بڑے آزاد اخبار نووایا گازیٹا سمیت متعدد آزاد ذرائع ابلاغ پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے روسی فوج کی یوکرینی شہروں پر گولہ باری اورعام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں’’غیرمعتبر اورسماجی طور پراہم غلط معلومات‘‘پھیلائی ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتین نے جمعرات کویوکرین پر بھرپور حملے کا حکم دیا تھا۔اس میں اب تک بیسیوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔صرف 48 گھنٹے میں 50 ہزار سے زیادہ افراد یوکرین سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں اور یورپ میں مزید تنازع کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

جنرل پراسیکیوٹر دفترکی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے ابلاغیات کے ریگولیٹر نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو اس وقت تک بلاک کر دیا جائے گا،جب تک کہ وہ ’’ناقابل اعتبارمعلومات‘‘کو ہٹا نہیں دیتے ہیں۔ان میں میں ماسکوریڈیو کاایکو بھی شامل ہے۔

روسکومنڈزور نے مذکورہ ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر معتبرعوامی طور پراہم معلومات کی تشہیرکی انتظامی تحقیقات کا آغاز بھی کردیا ہے۔اس نے بیان میں کہا ہے کہ اس جرم کی سزا پچاس لاکھ روبل (60 ہزارڈالر) تک جرمانہ ہے۔

روسکومنڈزور نے یہ بھی کہا کہ’’قابل اعتماد معلومات‘‘روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے اداروں سے مل سکتی ہیں۔

ماسکو نے ابھی تک یوکرین کے ان بیانات کے پیش نظر لڑائی میں روسی نقصانات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہیں۔ان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماسکو کی افواج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں