اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حوثیوں سے یمن مں تعز کے راستے اور گزرگاہیں کھولنے اور شہر کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ وہ تعز کے راستے کھلوانے کے لیے حوثیوں پر دباؤ ڈالیں گے اور یمن میں مکمل سیاسی تصفیے کے لیے ماحول سازگار بنوانے کی کوشش کریں گے۔ حوثیوں نے اس حوالے سے جو وعدے کیے ہوئے ہیں ان سے انہیں پورا کرایا جائے گا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ایلچی برائے یمن ہینس گرنڈبرگ نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ فریقین جنگ بندی کے سمجھوتے میں مزید دو ماہ کی توسیع پر رضامند ہوگئے ہیں۔ توسیع پر عمل درآمد دو جون سے شروع ہوا ہے۔
ہینس گرنڈبرگ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’گزشتہ دو مہینوں کے دوران یمن کے باشندوں نے جنگ بندی کے ٹھوس فوائد کا تجربہ کیا ہے۔‘
تجدید شدہ معاہدے سے تیل بردار جہازوں کو حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ بندرگاہ اور کمرشل پروازوں کو دارالحکومت صنعا کے ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کی اجازت ملے گی، یہ علاقے حوثی گروپ کے زیر کنٹرول ہیں۔
یمن کے تمام فریقوں نے جنگ بندی کے سمجھوتے میں توسیع کی منظوری دی ہے۔ سمجھوتے پر عمل درآمد 2 اپریل 2022 کو شروع ہوا تھا۔