چین کے شہرشنگھائی شہر میں حکام نے کووڈ-19 اومیکرون کی ایک نئی شکل دریافت کی ہے۔اس کیس میں اومیکرون کا ایک نیا ذیلی متغیّر بی اے.5.2.1 پایا گیا ہے۔اس کے پیش نظرچین اپنی ’’زیروکووِڈ‘‘پالیسی پرعمل درآمد جاری رکھے گا۔
شہر کے ہیلتھ کمیشن کے وائس ڈائریکٹرژاؤ ڈنڈن نے بتایا کہ 8 جولائی کو شہر کے مالیاتی مرکزپوڈونگ میں بیرون ملک سے آنے والاایک شخص اومیکرون کی اس نئی شکل میں مبتلا پایا گیا ہے۔
چین کے مشرق میں واقع بڑے شہر شنگھائی میں جون کے آغاز میں قریباً دو ماہ تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہوا تھا لیکن شہر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سخت پابندیاں کا نفاذ جاری ہے اورحکام نے وائرس کی نئی ممکنہ شکل کے ابھرتے ہی عمارتوں اورکمپاؤنڈز کو ایک مرتبہ پھر تالے لگا دیے ہیں۔
شنگھائی ہیلتھ کمیشن کے ژاؤ نے خبردار کیا کہ ہمارے شہر نے حال ہی میں مقامی طور پر منتقل ہونے والے مزید مثبت کیسز (کووڈ-19) کی اطلاعات کا سلسلہ جاری ہے اور معاشرے میں وَبا پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
انھوں نےکہا کہ شنگھائی کے کئی بڑے اضلاع کے مکینوں کو 12 سے 14 جولائی تک کووڈ ٹیسٹ کے دو ادوار سے گزرنا پڑے گا تاکہ ممکنہ نئی وبا پرقابوپایا جاسکے۔
چین کے مرکز برائے انسداد امراض اور کنٹرول کے مطابق اومیکرون کی نئی شکل بی اے.5 بیرون ملک کووِڈ-19 انفیکشن کی ایک نئی لہر ہے۔چین میں پہلی مرتبہ13 مئی کو ایک 37 سالہ مرد مریض میں اس کا پتا چلا تھا۔یہ شخص افریقی ملک یوگنڈا سے شنگھائی آیا تھا۔
کووِڈ کی روک تھام سے متعلق شہر کے ماہر مشاورتی گروپ کے رکن یوآن ژینگان نے اتوار کی بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویرینٹ بی اے.5 میں ٹرانسمیشن کی بلند شرح ہےاور بہترمدافعتی صلاحیت سے اس سے بچاجاسکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بی اے.5 کو سنگین بیماری یا موت کا سبب بننے سے روکنے کے لیے ویکسی نیشن اب بھی مؤثر ہے۔