بائیڈن کی پالیسی ویانا معاہدے کو بحال کرنے کی خواہش سے متصادم ہے:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے اختیار کی گئی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے ویانا میں جاری جوہری معاہدے کی بحالی کے مذاکرات کے حوالے سے قول و فعل میں تضاد ہے۔ ایران کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں تہران نے مزید 20 فی صد یورینیم کی افزودگی کا اعتراف کیا ہے۔

آج منگل کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ "ایران کے خلاف اقتصادی اور سفارتی دباؤ کی پالیسی پر عمل کرنے اور اس پر عمل کرنے پر بائیڈن کا زور جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی اس ملک کی خواہش کے اظہار کے خلاف ہے۔"

انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کی پالیسی"ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی ناکام پالیسی کا تسلسل" ہے۔

یک طرفہ دستبرداری کے ساتھ اختلافات کو حل کرنے کے لیے کثیر الجہتی سفارت کاری کی حکمت عملی کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکی ہےاور یہ کہ موجودہ انتظامیہ "اقتصادی دباؤ کو جاری رکھتے ہوئے اسی طرز عمل پر عمل پیرا ہے اور ایران پر پابندیاں لگانے کی پالیسی پر چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’مشرق وسطیٰ کا خطہ اس وقت تک زیادہ محفوظ اور مستحکم نہیں ہو گا جب تک امریکا خطے کے ممالک میں تقسیم پیدا کرنے کی اپنی پالیسی ختم نہیں کرتا۔ مغربی ایشیا کے خطے میں عدم استحکام کی اصل ذمہ دار پالیسیاں ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں