ایرانی وزیرخارجہ نے اسرائیل اور مغربی انٹیلی جنس اداروں پرالزام عایدکیاہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہروں کے ذریعے ملک کو تقسیم کرنے اور خانہ جنگی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
ان کے ایک روزقبل جنوب مغربی شہرایذہ میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے،۔ایران کے سرکاری میڈیا نےاس واقعہ کو’’دہشت گردی کے حملے‘‘کے طور پرپیش کیا تھا۔
ایرانی وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرایک بیان میں کہا کہ ’’مختلف سکیورٹی اداروں، اسرائیل اور بعض مغربی سیاست دانوں کو جان لینا چاہیے کہ ایران لیبیا یا سوڈان نہیں ہے‘‘۔ان کے بہ قول انھوں نے ایران میں خانہ جنگی، تباہی اور بکھرنے کے منصوبے بنائے ہیں۔
تہران نے مغربی مخالفین پرالزام عایدکیا ہے کہ وہ 16 ستمبرکوایرانی کردخاتون مہساامینی کی ہلاکت کے بعد ملک بھرمیں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔اس دوشیزہ کو تہران کی اخلاقی پولیس نے مبیّنہ طورپراسلامی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرگرفتار کیا تھا اور ان کی تین روز بعد زیرحراست موت واقع ہوگئی تھی۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کے روز تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھا اور موٹرسائیکل پرسوارمسلح افراد نے اصفہان میں سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکاروں کو گولی ماردی تھی جس کے نتیجے میں دوافرادہلاک اورآٹھ زخمی ہو گئے تھے۔
دوسری جانب فرانس اوربرطانیہ نے ایران پرالزام عایدکیا ہے کہ وہ ان کے شہریوں کو دھمکی دے رہا ہےجبکہ ایران نے کہا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں فرانسیسی انٹیلی جنس ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔