’’ایک زبان کی پالیسی‘‘کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی شہری کی خود سوزی

ہم ہندی کو تامل زبان پر ترجیح کیوں دیتے ہیں، اس سے نوجوانوں کا مستقبل خراب ہوجائے گا: بزرگ کے بینر پر درج عبارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جنوبی بھارت میں ایک 80 سالہ شخص نے خاص طور پر شمال میں بولی جانے والی ہندی زبان کو نافذ کرنے کی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو آگ لگا لی۔ پولیس کے مطابق اس معمر شخص نے کہا کہ نئی دہلی حکومت پورے ملک میں ہندی نافذ کرنا چاہتی ہے۔

ہندوستان میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں اور وہاں پر زبان ایک حساس موضوع ہے۔ انگریزی کو رابطے کے لیے ایک عام سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومتیں اپنے علاقے میں بولی جانے والی کسی ایک زبان کو اپنا لیتی ہیں۔ 2011 میں کیے گئے تازہ ترین سروے کے مطابق ملک کے صرف 44 فیصد شہری ہندی بولتے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اخبارات نے خبر دی تھی کہ طاقتور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں ارکان پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے تعلیم سمیت ہندی کو سرکاری قومی زبان بنانے کی سفارش کی تھی۔

ہندو قوم پرست وزیر اعظم نریندر مودی اپنی طرف سے انگریزی کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انگریزی کا استعمال "غلامانہ ذہنیت" کا نتیجہ ہے ۔ ہم ہندوستانی زبانوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

تاہم مودی کے مخالفین ان پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ مودی پورے بھارت میں ہندی زبان کو خاص طور پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے ملک کے جنوب جہاں دراوڑی زبانیں استعمال ہوتی ہیں کی آبادی کی ناراضی بڑھ رہی ہے۔

دراوڑی زبانوں کا خاندان جو ہندی یورپی خاندان سے بالکل مختلف ہے۔

پولیس نے بتایا کہ جنوبی ریاست تامل ناڈو کے شہر سالم میں ہفتہ کے روز 85 سالہ کسان ایم وی تھانگویل نے خود پر پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی، اس نے ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا "مودی حکومت ہندی کو مسلط کرنا بند کرو۔ ہم اپنے بہترین ادب کے باوجود تامل پر ہندی کو ترجیح کیوں دیں، اس سے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچے گا۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ تھانگویل نے ریاست تمل ناڈو کی حکمران جماعت دراوڑ پروگریسو یونین کی شاخ کے سامنے خودکشی کر لی ہے۔ تھانگویل اسی پپارٹی کے رکن تھے۔

اس پارٹی کے رکن ایم کے سٹالن نے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو ہوا اسے نہ دہرایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں