ترکیہ مخالف احتجاج؛انقرہ نے سویڈش وزیردفاع کا دورہ منسوخ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سویڈن کی جانب سے ترکیہ مخالف مظاہروں کے اجازت نامے جاری کرنے پرانقرہ نے سویڈن کے وزیر دفاع کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔

ترکیہ کے وزیر دفاع ہولوسی عکارنے ہفتے کے روز کہا کہ ان کے سویڈش ہم منصب پال جونسن کا 27 جنوری کو طے شدہ دورہ اب نہیں ہوگا۔اس ملاقات کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی کیونکہ سویڈن ترکیہ کے خلاف’گھناؤنے‘مظاہروں کی اجازت دے رہا ہے۔

سویڈن میں اس ہفتےکے آخرمیں متعدد مظاہروں کی تیاری کی جارہی ہے۔ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے ایک کارکن کو اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے باہراحتجاج کرنے کی اجازت مل گئی ہے،جہاں وہ اسلام کی مقدس کتاب قرآن کوجلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ترکیہ نوازاور کرد حامی دونوں گروپ سویڈش دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مظاہروں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ترک حکام نے ہفتے کے روزٹویٹر پر اسلام مخالف سرگرم کارکن راسمس پلودان کے قرآن کو نذر آتش کرنے کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔ ترکیہ کے صدر کے ترجمان ابراہیم کالین نے اسے انسانیت کے خلاف نفرت انگیز جرم قراردیا ہے۔

حکمراں جماعت کے ترجمان عمرسیلک نے سویڈش حکام پرنفرت انگیزجرائم کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عایدکیا۔ سویڈن کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو نے صحافیوں کو بتایا کہ قرآن پرحملہ کرنے کو اظہاررائے کی آزادی نہیں سمجھاجاسکتا اورانھیں امید ہے کہ سویڈش حکام احتجاج کا اجازت نامہ منسوخ کر دیں گے۔

نیٹوکے رکن ملک ترکیہ کی جانب سے سویڈن کے خلاف تازہ ترین ردعمل ہے اور وہ سویڈن کی فوجی اتحاد میں شمولیت کی درخواست کی منظوری اس وقت تک روک رہا ہے جب تک سویڈش حکومت ان گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرتی جنھیں انقرہ سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

ترکیہ نے جمعہ کے روزسویڈش سفیر کو طلب کرکے مجوزہ مظاہروں کی مذمت کی تھی اور کہا تھاکہ کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے سے وابستہ کرد حامی گروہوں کی جانب سے احتجاج ترکیہ، سویڈن اور فن لینڈ کے درمیان دستخط شدہ مشترکہ یادداشت کی خلاف ورزی ہوگی۔اس سمجھوتے نے جون میں نارڈک ممالک کے نیٹو میں شمولیت کے لیے ترکیہ کو ویٹو کرنے سے روک دیا تھا۔

ترکیہ، امریکا اور یورپی یونین پی کے کے کو ایک دہشت گرد گروپ سمجھتے ہیں اور یادداشت میں سویڈن اور فن لینڈ نے بھی اس کی "تصدیق" کی تھی۔ اس سے قبل جنوری میں کردوں کے احتجاج کے دوران میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کا پتلا لیمپ پوسٹ سے لٹکایا گیا تھا۔

ترکیہ نے سویڈش پراسیکیوٹر کی جانب سے اس واقعہ کی تحقیقات نہ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی اور سویڈش وزیراعظم الف کرسٹرسن نے اس احتجاج کو سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی کوشش کے خلاف ’تخریب کاری‘ قراردیا تھا۔

ترکیہ نے اس ہفتے کے اوائل میں سویڈش سفیرکو طلب کیا تھا اور اس واقعہ کے رد عمل میں سویڈش پارلیمان کے اسپیکرکا دورہ منسوخ کردیا تھا۔ نیٹو کے تمام رکن ممالک کواپنی اپنی پارلیمان میں سویڈن اور فن لینڈ کی تنظیم میں شمولیت کی درخواستوں کی توثیق کرنے کی ضرورت ہے،جو یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے بعد کی گئی تھیں جس کے بعد نارڈک ممالک نے فوجی عدم وابستگی کی اپنی دیرینہ پالیسیوں کو ترک کردیا تھا۔

ترکیہ کاکہنا ہے کہ اسے نیٹومیں توسیع پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ اس وقت تک اس کی توثیق نہیں کرے گا جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں کردیے جاتے۔ان میں مبیّنہ دہشت گرد مشتبہ افراد کی حوالگی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں