ٹینکوں کے بحران کے جلو میں نئے جرمن وزیر دفاع کا عن قریب یوکرین کا دورہ متوقع
نئے جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ وہ جلد یوکرین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف برلن کو کیف کو جرمن ساختہ ٹینکوں کی فراہمی کی اجازت دینے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔
پسٹوریئس نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں جرمن اخبار "ویلٹ ایم سونٹاگ" کو بتایا کہ " یقینی طور پرمیں جلد یوکرین کا سفر کروں گا۔ شاید اگلے چار ہفتوں کے اندر یہ سفر ہوجائے۔"
جرمنی اور اس کے مغربی اتحادی جمعے کے روز اس فیصلے پر نہیں پہنچے کہ آیا جرمنی یوکرین کو لیوپرڈ 2 ٹینک بھیجنے پر راضی ہو گا یا ان کے مالک دوسرے ممالک کو ایسا کرنے کی اجازت دے گا۔ حالانکہ یوکرین کی جانب سے جدید ٹینک فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تاکہ وہ اپنی دفاعی کوششوں کو تقویت دے سکیں۔ .
ٹینکوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں پسٹوریئس نے کہا کہ "ہم اس معاملے پر اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ سب سے پہلے اور سب سے اہم بات امریکا کے ساتھ بہت محتاط بات چیت کر رہے ہیں۔"
جرمن ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا وہاں سے ٹینک بھیجنے پر راضی ہوتا ہے تو وہ روس کے خلاف اپنے دفاع میں مدد کے لیے جرمن ساختہ ٹینک یوکرین بھیجنے کی اجازت دیں گے لیکن امریکی حکام نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ایم ون ابرامز ٹینک سمیت اپنے ٹینک بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہے۔