روس کی جانب سے کریملن حملے سے متعلق یوکرین کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں:واشنگٹن
امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ناتھن ٹیک نے زوردے کر کہا ہے کہ یوکرین کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن صرف اپنے دفاع کے لیے یوکرین کی حمایت کرتا ہے۔
انھوں نے العربیہ/الحدث کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ ان کا ملک کریملن پر حملے کے حوالے سے روس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تصدیق کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کریملن حملے کے حوالے سے یوکرین کے خلاف روس کے الزامات "مضحکہ خیز" ہیں ۔ کریملن کی طرف سے آنے والے بیانات کو "شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔"
یوکرین کے ایوان صدرنے بدھ کے اوائل میں کہا تھا کہ کیف کا کریملن پر حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ کریملن پر حملہ ایک انتہا پسند روسی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔"
ولادی میر پوتین پر قاتلانہ حملہ
یوکرینی بیانات روس کی جانب سے بدھ کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اس نے صدر ولادیمیر پوتین کو قتل کرنے کی کوشش میں صدارتی محل کو نشانہ بنانے والے دو ڈرون مار گرائے تھے۔
کریملن نے ایک بیان میں اس کارروائی کو "ایک دہشت گردانہ کارروائی اور روسی فیڈریشن کے صدر کو قتل کرنے کی کوشش" قرار دیتے ہوئے کہا کہ "دو بمبار ڈرونز نے کریملن کو نشانہ بنایا۔ دونوں آلات کو مار گرایا گیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہوا۔
روسی ایوان صدر نے تصدیق کی کہ دونوں ڈرنز کا ملبہ کریملن کے اندر گرا تاہم کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔
صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ پوتین بدھ کو ماسکو کے قریب اپنی رہائش گاہ پر کام کر رہے تھے۔ وہ اگلے ہفتے ریڈ اسکوائر میں یوم فتح کی پریڈ میں منصوبہ بندی کے مطابق حصہ لیں گے۔