پانچ امیر لوگ اور 750 تارکین وطن: تصویریں دو اور انجام ایک
اتوار سے ہی دنیا بھر میں لوگوں کی سانسیں بند ہوتی دکھائی دیں جب معلوم ہوا کہ 1912 میں ڈوبنے والے مشہور ٹائٹینک کے ملبے کو دیکھنے کے سیاحتی سفر جانے والے پانچ افراد کی آبدوز بحر اوقیانوس کی تہہ میں لاپتہ ہوگئی۔
دوسری جانب اس سانحے سے چند روز قبل یونان کے قریب ایک اور کشتی ڈوب گئی جس میں 750 تارکین وطن اپنے اپنے ملکوں سے بھاگ کر روزگار کی تلاش میں یونان جارہے تھے۔ کشتی میں زیادہ تر شامی، مصری اور پاکستانی سوار تھے۔
دو تصاویر یا سمندر میں ان دو مناظر کا اختتام سانحہ پر ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی انسان کی موت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
تاہم دونوں معاملات پر دنیا کے رد عمل کا واضح فرق اس وقت سامنے آیا کہ جب کچھ بین الاقوامی میڈیا نے دنیا کے دو رخی کو بیان کیا۔
سابق امریکی صدر براک اوباما نے گزشتہ گھنٹوں کے دوران کئی برطانوی اخبارات کے ساتھ ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا۔
Impressive remarks from @BarackObama today at @SNForg as he courageously draws a parallel between the media's focus on the #TitanicSubmarine and the tragic loss of approximately 700 asylum seekers in a recent shipwreck near #Pylos | #RefugeeWeek #Titanic pic.twitter.com/6cIqqJ8XAk
— Makis Mylonas (@MylonasMakis) June 22, 2023
جمعرات کو ایک لیکچر کے دوران اپنی ایک تقریر میں اوباما نے دونوں واقعات کو چھوتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سانحہ ایک ہی ہے لیکن دونوں مناظر کی میڈیا کوریج بالکل بھی منصفانہ نہیں تھی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹائٹن آبدوز کی خبروں اور پیشرفت کی کوریج جسے امریکہ میں قائم اوشین گیٹ ایکسپیڈیشنز کمپنی چلاتی ہے کو پانچ مسافروں کی تلاش میں بحر اوقیانوس میں دنیا بھر میں قریبی فالو اپ اور بین الاقوامی الرٹ موصول ہوا ہے۔
آبدوز میں برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ (58 سال)، پاکستانی نژاد تاجر شہزادہ داؤد (48 سال) ، ان کا بیٹا سلیمان (19 سال) سوار تھے۔ یہ دونوں برطانوی شہری تھے۔ فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نرگولٹ ( 77 سال) بھی بحری جہاز پر تھے۔
دوسری طرف غیر قانونی امیگریشن کشتی یونان کے ساحل پر ڈوب گئی جس میں خواتین اور بچوں سمیت 750 افراد سوار تھے۔ 43 سال کے محمد الحصری کے مطابق یہ کشتی چار دن تک سمندر میں موجود رہی اور کوئی بھی اس کی مدد کے لیے نہیں آیا۔ عرب ورلڈ نیوز ایجنسی نے بتایا کہ الحصری تین بچوں کا باپ اور زندہ بچ جانے والوں میں سے ایک ہے۔
موت کے ان دو سفروں کے مسافروں نے اپنے اپنے حساب سے سفر کے لیے بھاری قیمت ادا کی تھی۔
ٹائٹن پر سوار پانچ امیر کبیر افراد نے فی کس اڑھائی لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔ مہاجر کشتی کے تارکین وطن نے اوسط 5 ہزار سے 10 ہزار ڈالر قیمت ادا کی تھی۔ سب سے اہم اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان سب نے اپنی جان سے وہ قیمت ادا کی جس کی تلافی دنیا کے پیسوں سے نہیں ہو سکتی!