افغانستان میں حکمران طالبان کی خواتین کے حوالے سے پالیسی واضح ہے جس میں طالبان کی طرف سے خواتین پرکئی طرح کی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ مگر طالبان کی وزارت ثقافت کے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ جس میں غیرملکی خواتین سیاحوں کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے۔ صارفین کی طرف سے اس ٹویٹ کے بعد طالبان کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
اگست 2021ء کے آخر میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کر دیا ہے۔ ان پر ملازمتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اورخواتین کو سیاحتی مقامات اور پارکوں میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔
رواں سال اگست کے آخر میں طالبان حکومت کے وزیر شیخ خالد محمد حنفی نے مذہبی اسکالرز اور سکیورٹی فورسز پر زور دیا تھا کہ وہ خواتین کو وسطی صوبے بامیان میں واقع امیر نیشنل پارک میں جانے سے مکمل طور پر روکیں۔ انہوں نے صوبے کے دورے کے دوران اپنے اس مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے "اخلاقی بدعنوانی اور خواتین اور لڑکیوں کی قانونی حجاب پہننے میں ناکامی" کے ذریعے درست قرار دیا۔
تاہم انتہا پسند تحریک کی حکومت کی وزارت ثقافت و اطلاعات کی جانب سے شائع ہونے والی ایک ٹویٹ نے تنقید کی ایک نئی لہر پیدا کی ہے۔
وزارت نے’ایکس‘ پلیٹ فارم (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے اکاؤنٹ پرغیر ملکی سیاحوں کے ملک کے دورے کی تصویر شائع کی، جس میں خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکا، جرمنی، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے گیارہ سیاحوں نے جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں ملک کے جنوب میں صوبہ ہلمند کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔
خواتین کے چہروں کو چھپا دیا گیا تھا
تاہم وزارت نے اپنے اکاؤنٹ پر شائع کی گئی تصاویر میں خواتین سیاحوں کے چہروں کو بلر کر دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاحوں نے طالبان کی طرف سے ملک میں لائی گئی امن وامان کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
طالبان خواتین کے پارکوں اور تفریحی مقامات میں جانے کے سخت خلاف ہیں اور خواتین کی تصاویر کی سوشل میڈیا پر اشاعت پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہیں نے وزارت ثقافت واطلاعات کے ’ایکس‘ پیج پر شائع کی گئی غیرملکی خواتین کی تصاویر پر چُپ سادھ رکھی ہے۔
هلمند کې بهرنیو سيلانيانو د تاریخي آبداتو څخه لیدنه وکړه
— Ministry of Information and Culture-Afghanistan (@AfMoic) October 2, 2023
تېره ورځ د هلمند ولایت مرکز لښکرګاه ښار ته د جرمني، امریکا، نيوزيلاینډ او سویلي افریقا هېوادونو یولس تنو چي پنځه تنه پکې ښځې وې سفر وکړ.
یادو سیلانیانو د افغانستان د ډاډمن امنیت ستاینه وکړه او زیاته یې کړه
۱/۵ pic.twitter.com/HtA4Z6iq6V
دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان دوغلی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے اپنے ملک کی خواتین پر تعلیم اور ملازمت سمیت کئی طرح کی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں اور دوسری طرف طالبان حکومت غیرملکی خاتون سیاحوں کی مہمان نوازی کررہے ہیں۔
کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے غیرملکی خواتین کو سیاحت کی اجازت دے رہے ہیں۔ جن چیزوں کی وہ غیرملکی خواتین کو اجازت دے رہے ہیں اپنے ملک کی خواتین پر ان کے حصول پر پابندی عاید ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ طالبان کی پالیسی دوغلی ہے، غیرملکی خواتین کے لیے افغانستان میں سیر سپاٹا ’حلال‘ ہے اور افغان خواتین کے لیے ’حرام‘ ہے۔
-
بھارت میں افغانستان کا سفارت خانہ آج سے کام بند کر دے گا، خط ارسال
افغانستان نے بھارت میں اپنا سفارت خانہ آج بروز اتوار سے بند کرنے کا اعلان کر دیا ...
بين الاقوامى -
شاہ سلمان ریلیف سینٹر کی افغانستان میں سیلاب متاثرین میں 47 ٹن خوراک تقسیم
شاہ سلمان ریلیف اینڈ ہیومنیٹیرین سینٹر کی جانب سے افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع ...
بين الاقوامى -
ملالہ اکسویں پروقار نیلسن منڈیلا سالانہ لیکچر میں خصوصی شرکت اور خطاب کریں گی
نوبیل انعال یافتہ ملالہ یوسفزئی اس معتبر فورم پر خطاب کرنے والی اب تک کی کم عمر ...
بين الاقوامى