افغانستان میں طالبان نے اس سماجی کارکن کو رہائی دے دی ہے، جسے لڑکیوں کی تعلیم کے پرانے نظام کی بحالی کے حق میں مہم چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
رہائی پانے والے کارکن مطیع اللہ کا تعلق ایک مقامی این جی او سے ہے۔ مطیع اللہ کو سات ماہ پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک اور این جی او کے مطابق اس نے جیل میں 215 دن گذارے ہیں۔
وہ اپنی مہم کے دوران طالبان سے مطالبہ کرتا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے پہلے سے چلنے والے نظام کو دوبارہ بحال کیا جائے اور اس تعلیم پر لگائی گئی پابندی ختم کی جائے۔
واضح رہے طالبان نے کابل میں عنان حکومت سنبھالنے کے کچھ ہی دی بعد طالبات کی چھٹی جماعت کے بعد کی تعلیم کو روک دیا تھا۔ جبکہ پچھلے سال دسمبر میں طالبان نے لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم پر پابندی لگا دی تھی۔
تاہم اب اس تعلیم کے نظام کو بحال کرنے کی مہم چلاتے ہوئے گھر گھر پہنچنے کی کوشش کرنےوالے شخص کو طالبان حکومت نے رہا کر دیا۔