فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کے حامی برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم آگے بڑھ رہی ہے

امریکی و مغربی فوڈ چینز اور مصنوعات کی فروخت متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے صارفین میں اسرائیلی اور اسرائیل کی حامی مغربی کمپنیوں کے برانڈز ک بائیکاٹ کی مہم میں تیزی آ رہی ہے۔ بائیکاٹ کی یہ مہم غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کے خلاف بالعموم ہے اور بچوں اور عورتوں کی ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں کے سبب بالخصوص کیا جا رہا ہے۔

اس بائیکاٹ کی زد میں مخصوص مغربی برانڈز کی کھانے پینے سے متعلق مصنوعات کے علاوہ گھریلو استعمال میں آنے والی دیگر اشیاء بھی شامل ہیں۔

اس بائیکاٹ کا جائزہ لینے والی میڈیا ورکرز نے دیکھا کہ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے عرب ملک مصر میں دارالحکومت قاہرہ کے ایک خالی مکڈونلڈ میں ایک کارکن میزیں صاف کر رہا ہے۔

مگر قاہرہ میں یہ صرف مکڈونلڈ کا حال نہیں ہے دیگر مغربی ' فوڈ چینز ' بھی اسی طرح صحرائی منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں۔ کہ جیسے یہاں س کبھی کبھار ہی کسی کا گذر ہوتا ہو۔

اس کی ایک وجہ خصوصی ہے کہ غزہ کی پٹی جہاں اسرائیلی بمباری نے مکمل تباہی کا سماں پیدا کر رکھا ہے اور اب تک اس پٹی پر تقریباً 6000 فلسطینی بچے اسرائیلی بمباری سے شہید ہو چکے ہیں۔ یہ مناظر اگر کسی کے سامنے سب سے پہلے کسی طرح بھی آتے ہیں تو یہ مصر کے لوگ ہیں۔ اس لیے اسرائیل کے حامی ملکوں کے برانڈز کا بائیکاٹ میں اہم تر ہے۔

قاہرہ، مصر، 20 نومبر 2023 کو اسرائیل اور فلسطینی ملیشیا گروپ حماس کے درمیان جاری تنازعہ کے درمیان غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے مصر میں مغربی برانڈز کے بائیکاٹ کے نتیجے میں ایک کارکن مکڈونلڈز کے ایک خالی ریستوران میں میز صاف کر رہا ہے۔ (رائٹرز)

مصر جہاں سلامتی کے ایشوز کی وجہ سے حکومت نے شہریوں کے سڑکوں اور گلیوں میں نکل کر احتجاج کرنے کے مواقع کم فراہم کیے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جلسے جلوس کریں انہیں اندازہ ہے کہ مغربی برانڈز کا بائیکاٹ ہی بہترین راستہ ہے۔

31 سالہ مصری خاتون ریحام حمید کا اس سلسلے میں کہنا تھا' مجھے معلوم ہے ان کوششوں کا اسرائیلی جنگ پر بہت زیادہ اثر نہیں آئے گا۔ لیکن ایک شہری کے طور پر ہم مختلف اقوام کے لوگ کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں۔ کہ ہم اپنے ہاتھ فلسطینی شہریوں کے خون میں ڈوبے ہوئے نہ دیکھیں۔

مصر کے علاوہ جن ملکوں میں غزہ کے بچوں کے بہتے خون کے بارے میں حساسیت زیادہ دیکھی جا سکتی ہے۔ ان میں عرب دنیا کہ کویت ، اردن اور مراکش بطور خاص اہم ہیں۔ یہ حساسیت بڑے پر سکون انداز میں اسرائیلی اور مغربی و امریکی برانڈز کے بائیکاٹ مہم کی کامیابی کی صورت نظر آتی ہے۔

بائیکاٹ کی اس مہم کی زد میں وہ کمپنیاں بھی آ رہی ہیں جو اسرائیل کے حق میں بیانات دے کر اس جنگ میں اس کی کھلی حمایت کر چکی ہیں اور کچھ ایسی کمپنیاں ہیں جو اسرائیل کو مالی امداد دینے میں پیش پیش رہتی ہیں۔ کچھ کمپنیوں کے اسرائیل کے ساتھ معاہدات بھی ہیں۔

بائیکاٹ کی یہ مہم سوشل میڈیا پر بھی اپنے انداز کے اثرات رکھتی ہے۔ بائیکاٹ کے لائق برانڈز کی فہرستیں اسی سوشل میڈیا سے عام طور پر دستیاب ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین کو مغربی ، امریکی اور اسرائیلی برانڈز کے متبادل مقامی برانڈز کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اردن کے رہائشی تو یہ بھی کرتے ہیں کہ وہ مکڈونلڈ اور سٹار بکس ایسے غیر ملکی برانڈز کی دکانوں اور ہوٹلوں پر جا کر صارفین سے کہتے ہیں کہ اپنا پیسہ کسی اور جگہ پر خرچ کریں یا لگا لیں

انہی کے پاس ایسی ویڈیوز بھی ہیں جو اسرائیلی فوجیوں کو ایک مخصوص واشنگ پاؤڈر سے کپڑے دھوتے دیکھتے ہیں۔ اس ڈٹر جنٹ کا اردنی صارفین اپنے ہم وطنوں کو بائیکاٹ کرنے کا کہتے ہیں۔

20 نومبر کو قاہرہ، مصر میں اسرائیل اور فلسطینی ملیشیا گروپ حماس کے درمیان جاری تنازعہ کے درمیان غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے مصر میں مغربی برانڈز کے بائیکاٹ کے نتیجے میں کارکن خالی کینٹکی فرائیڈ چکن (KFC) ریستوران میں کام کر رہے ہیں۔ 2023. (رائٹرز)

ایک سپر مارکیٹ میں موجود کیشئیر احمد الزارو نے کہا ' اب ان بڑے برانڈز کو کو کوئی نہیں خرید رہا ہے۔ لوگ صرف مقامی برانڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ '

کویت سٹی میں منگل کے روز اس نمائندے نے سات اہم اور امریکی برانڈز کا دورہ کیا ۔ ان میں مکڈونلڈز ، سٹاربکس اور کے ایف سی وغیرہ شامل تھے ۔ لیکن سب ہی تقریباً خالی تھے۔ سٹاربکس پر موجود ایک کارکن اپنا نام ظاہر کرنے سے معذرت کرتے ہوئے بتایا 'امریکہ کے دوسرے برانڈز بھی بائیکاٹ مہم سے متاثر ہوئے ہیں۔'

مراکش کے شہر رباط میں سٹار بکس کی شاخ پر موجود ایک ذمہ دار کا کہنا تھا ' گاہکوں کی تعداد میں بہت کمی ہو گئی ہے۔ تاہم اس نے اس سلسلے میں کمپنی کے پاس دستیاب اعدادو شمار نہیں دیے۔

واضح رہے بائیکاٹ مہم کے موثر ہوتے چلے جانے کے بعد مکڈونلڈز کارپوریشن نے پچھلے ماہ ایک بیان میں میں ناخوشی ظاہر کی تھی کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ میں اس کی پوزیشن کے بارے میں غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا تھا مکڈونلڈ کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں۔'

مصر میں مکڈونلڈ کی فرنچائز رکھنے والے مصری نے اپنی ملکیت کو نمایاں کرتے ہوئے غزہ کے لیے 20 ملین مصری پاونڈ کی امداد بھ دینے کا اعلان کیا۔

تاہم سٹاربکس نے مسلمانوں کی طرف سے جاری بائیکاٹ مہم کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ بس یہ کیا کہ خود کو غیر سیاسی قرار دیا اور اسرائیلی فوج یا حکومت کو کوئی مالی امداد دینے کی تردید کی ۔

بہت ساری دیگر مغربی کمپنیاں بھی اس بارے میں میڈیا کے سوالات پر کوئی جواب دینے یا تبصرہ کرنے کو تیار نہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان جاری لڑائیوں کے درمیان فلسطینیوں نے 28 اکتوبر 2023 کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر ہیبرون میں ایک ریلی کے دوران اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے پوسٹرز اٹھا رکھے ہیں۔ (اے ایف پی)

بے مثال ردعمل

بائیکاٹ مہم ان ملکوں کے عوام میں زیادہ پھیل رہی ہے جن کے عوام میں روایتی طور پر فلسطین کے حق میں زیادہ اچھے احساست و جذبات پائے ہیں۔

مصر اور اردن نے کئی سال پہلے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے تھے لیکن اس کے باوجود عوامی سطح پر ان چیزوں کو مقبولیت نہیں ملی ہے۔ عوامی رجحان فلسطینیوں کی ہی طرف ہے۔

مختلف ملکوں میں ہونے والے احتجاج بھی بتاتے ہیں عوام میں فلسطینیوں کے حق میں غیر معمولی انسانیت پائی جاتی ہے۔ اس لیے 13300 فلسطینی کی جان کا چلے جانا انہیں بے چین کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں