چیک ریپبلک کی یونیورسٹی میں فائرنگ سے 15 افراد ہلاک، 24 سے زائد زخمی
پراگ پولیس کے مطابق ’یونیورسٹی عمارت کو فی الحال خالی کروایا جا رہا ہے اور موقعے پر متعدد افراد کی جان گئی ہے اور درجنوں زخمی ہیں۔‘
جمہوریہ چیک کی پولیس نے جمعرات کو کہا ہے کہ مسلح شخص نے وسطی پراگ میں واقع یونیورسٹی میں فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں اب تک پندرہ افراد کی ہلاکت جبکہ 24 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چیک میڈیا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ چارلز یونیورسٹی کے شعبہ آرٹس میں پیش آیا جہاں پولیس کی کارروائی جاری ہے جب کہ تدریسی عملے اور طلبہ کو محفوظ مقام پر جانےکی ہدایت کی گئی۔
پولیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ کہ حملہ آور کو مار دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عمارت کو فی الحال خالی کروایا جا رہا ہے اور موقعے پر متعدد افراد کی جان گئی ہے اور درجنوں زخمی ہیں۔‘
وزیر داخلہ ویٹ راکوسن نے سرکاری ٹی وی کو ’ابتدائی معلومات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور ممکنہ طور پر ’مارا جا چکا ہے۔‘
پراگ کی ایمرجنسی سروس نے ایکس پر بتایا کہ یونیورسٹی کے متاثرہ شعبے میں ’بڑی تعداد میں ایمبولینس گاڑیاں‘ کھڑی کی گئیں۔ سروس نے مزید کہا کہ کچھ لوگ معمولی زخمی ہیں جب کہ بعض کو گہرے زخم آئے۔
نجی نووا ٹی وی نے پراگ کے تاریخی مرکز میں عمارت کی چھت پر دھماکے اور ایک مسلح شخص کی موجودگی اطلاع دی ہے۔
راکوسن نے کہا کہ ’کسی اور مسلح شخص کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔‘انہوں نے لوگوں سے پولیس کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔
پولیس نے علاقے کو سیل کر دیا اور آس پاس رہنے والے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔