فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے منصوبوں پر اسرائیل کے سموٹریچ اور بین گویر پر تنقید
"یہ بیان بازی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔۔ انہیں فوری طور پر رک جانا چاہیے": ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ
امریکی محکمۂ خارجہ نے غزہ سے باہر فلسطینیوں کی آباد کاری کی وکالت کرنے پر اسرائیلی وزراء بیزلیل سموٹریچ اور اتمار بین گویر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
محکمۂ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر نے کہا، "یہ بیان بازی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ انہیں فوری طور پر رک جانا چاہیے۔"
سموٹریچ اور بین گویر کے تبصروں کے بعد اسرائیل کی موجودہ حکومت کے چند انتہائی انتہا پسند وزراء نے جنوبی اسرائیل میں سلامتی اور استحکام کی بحالی کے لیے فلسطینیوں کی دوبارہ آباد کاری کے منصوبے کو فروغ دیا۔
سموٹریچ نے ایسے ممالک کو تلاش کرنے پر بھی زور دیا جو فلسطینیوں کو رکھنے پر راضی ہو جائیں اور کہا انکلیو ایک "گھیٹو" ہے اور اس کے شہری بے قصور نہیں ہیں۔
ملر نے کہا، "ہمارا اس بات پر واضح، مستقل اور صریح نکتۂ نظر رہا ہے کہ غزہ فلسطینی سرزمین ہے اور فلسطینی سرزمین رہے گی جہاں اس کے مستقبل پر حماس کا مزید کنٹرول نہ ہو اور کوئی دہشت گرد گروپ اسرائیل کو دھمکی دینے کے قابل نہ رہیں۔"
انہوں نے مزید کہا: "یہی وہ مستقبل ہے جسے ہم اسرائیلیوں اور فلسطینیوں، ارد گرد کے خطے اور دنیا کے مفاد میں چاہتے ہیں۔"
بین گویر نے کہا تھا کہ غزہ کے باشندوں کی جبری نقلِ مکانی درست اور "انسانی حل" تھا۔
بائیڈن انتظامیہ نے دو وزراء کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر بھی موجودہ حکومت کی نسل پرستانہ بیان بازی اور اقدامات کے لیے بار بار تنقید کی ہے۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر مسلسل حملوں کے بعد واشنگٹن نے گذشتہ سال کے آخر میں اسرائیلی انتہا پسند آباد کاروں پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
نیتن یاہو کی حکومت نے بستیوں کی توسیع کی حوصلہ افزائی کی ہے۔