سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بحیرہ احمر میں کشیدگی اور خطے میں عمومی طور پر سلامتی کے بارے میں مملکت کی طرف سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سرگرمیوں کے دوران ایک ڈائیلاگ سیشن کے دوران سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ غزہ کی جنگ پورے خطے کو بڑے خطرات کی طرف گھیسٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔
وزير الخارجية السعودي: الحرب في غزة تجر الإقليم بأكمله إلى مخاطر كبيرة#العربية pic.twitter.com/MihiIcSvjw
— العربية (@AlArabiya) January 16, 2024
ان کا کہنا تھا کہ ’’بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں کا تعلق غزہ کی جنگ سے ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں اسرائیل کی طرف سے جنگ اور کشیدگی کو روکنے کے لیے کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ ہماری ترجیح کشیدگی کو کم کرنے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہے اور اس کا انحصار غزہ میں جنگ کو روکنے پر ہے"۔
سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ "غزہ میں جنگ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مزید کچھ کرنا چاہیے۔ غزہ میں جنگ مسلسل مصائب بڑھنے کے واقعات کا باعث بنیں گی"۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی سلامتی فلسطینی ریاست کے قیام کے ذریعے فلسطینیوں کی سلامتی کے حصول سے منسلک ہے"۔
انہوں نے کہا کہ "امن کی طرف پہلا قدم تمام فریقین کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی ہے۔ اسرائیل غزہ میں جو کچھ کر رہا ہے اس سے خطے کی سلامتی امن کو خطرہ ہے۔"
اس موقعےپر جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا کہ اسرائیل اور غزہ میں شہری ایک المیے سے گذر رہے ہیں۔ ہم تنازعہ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔
وزير الخارجية السعودي: أولويتنا هي إيجاد مسار لخفض التصعيد وهذا يعتمد على وقف الحرب بغزة#العربية pic.twitter.com/dMhse0GSFG
— العربية (@AlArabiya) January 16, 2024
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن پہلے قیدیوں کو آزاد کیا جانا چاہیے اور غزہ میں ہونے والے المیے کو کم کرنا چاہیے۔ دو ریاستی حل بہترین راستہ ہے، لیکن اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے سلامتی کی ضمانت ہونی چاہیے‘‘۔