ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تجارت کا حجم 9.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا لیکن ان کا خیال ہے کہ یہ حجم ختم ہوگیا ہے۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی نے ایردوآن کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ تجارت کے خاتمے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تجارت کا حجم 9.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا لیکن ہم نے اس کا باب بند کردیا۔
TRT نے ایردوآن کےحوالے سے کہا کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بعد اسرائیل کے ساتھ کھڑے نہیں رہ سکتے اور نہیں دیکھ سکتے۔ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ تجارتی تبادلے کو ایسے ہی سمجھے گا جیسے تھا ہی نہیں‘‘۔
ترکی نے جمعرات کو اسرائیل کے ساتھ تمام مصنوعات سمیت برآمدات اور درآمدات کے لین دین کو روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اناطولیہ نیوز ایجنسی نے اس وقت اطلاع دی تھی کہ یہ فیصلہ اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک انسانی امداد کو غزہ کی پٹی میں بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
جمعرات کو، اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے ترک بندرگاہوں کو اسرائیلی برآمدات اور درآمدات کے لیے بند کرنے کے ایردوآن کے فیصلے کو "معاہدوں کی خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے ان پر "ترک عوام اور تاجروں کے مفادات کو نظر انداز کرنے اور بین الاقوامی تجارت کے قوانین کو نظر انداز کرنے" کا الزام لگایا۔
کاٹز نے (ایکس) پلیٹ فارم پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ اس نے اسرائیلی حکومت میں تمام متعلقہ فریقوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ترکیہ کے ساتھ تجارت کے متبادل تلاش کرنے کے لیے فوری طور پر کام کریں۔
دوسری جانب فلسطینی تحریک حماس نے ترکیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کریں اور اسے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں کی "خوفناک نسل کشی" کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دیں ۔