جمعہ 24 مئی کو عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو حکم دیا کہ رفح پر حملے روک دے۔ فیصلہ 2 کے مقابلے میں 13 ججوں کی اکثریت سے سنایا گیا۔ ناجائز جارحیت روکنے کے فیصلے کی مخالفت کرنے والے وہ دو جج کون تھے؟ ۔ مخالفت کرنے والے ان ججوں میں سے ایک کا تعلق یوگنڈا اور ایک کا اسرائیل سے تھا۔
جن دو ججوں نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کی مخالفت کی ان میں یوگنڈا کی خاتون جج جولیا سیبوتینڈے اس عدالت کی نائب صدر ہیں۔ اسرائیل سے تعلق رکھنے والے خصوصی ایڈہاک جج ہارون بارک تھے۔ بارک کا تعلق عدالت کے 15 ارکان سے نہیں ہے لیکن وہ ان خصوصی ججوں کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں عدالت کے سامنے مخصوص مقدمات میں چنا جاتا ہے۔
عالمی عدالت کے قانون کے آرٹیکل 31 کے پیراگراف 2 اور 3 کے تحت عدالت کے سامنے کسی بھی مقدمے کا وہ فریق ملک جس کا کوئی جج کمیٹی کے رکن کے طور پر موجود نہ ہو وہ اپنی طرف سے کسی شخص کو ایڈہاک جج کے طور پر منتخب کر سکتا ہے۔
اگرچہ عدالت کے پاس اپنے احکامات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ذرائع نہیں ہیں تاہم یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے احکامات پر عمل کرنے کے تمام فریق پابند ہیں۔ انہوں نے ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ عدالتی احکامات کو مکمل اور مؤثر طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ یورپی یونین کی جانب سے فیصلے کی حمایت کی گئی تاہم امریکہ نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کئے رکھی ہے۔ عربوں کی جانب سے اس فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا۔