میکسیکو میں کل اتوار کو 99 ملین سے زیادہ شہری عام انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس الیکشن میں 500 ارکان پارلیمنٹ، 128 سینیٹرز، 9 ریاستی گورنرز اور سینکڑوں میئرز اور مقامی کونسلوں کے سربراہان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔
تاہم اس حوالے سے سب سے اہم بات ایک نئے صدر کا انتخاب ہے۔ 13 کروڑ آبادی والے ملک میکسیکو میں ملک کی جدید تاریخ میں سب سے زیادہ مقبول اور مثبت طور پرمتنازعہ رہ نما 71 سالہ لوپیز اوبراڈور کا دور صدارت ختم ہو گیا ہے۔ تاہم ان کی جانشین ایک خاتون امیدوار ہوسکتی ہیں جو اس وقت سب سے زیادہ مقبول دکھائی دیتی ہیں۔
اصل مقابلہ بائیں بازو کی امیدوار 61 سالہ کلاڈیا شین بام کے درمیان ہے، جو ملک کی موجودہ حکمران مورینا پارٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کی حریف اور ہم عمر بائیں بازو کی امیدوار Xóchitl Gálvez ہیں جو سینیٹ کی سابق رکن ہیں۔ وہ اب نیشنل ایکشن پارٹی، ادارہ جاتی انقلابی پارٹی اور ریوولیوشنری ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان اتحاد کی نمائندگی کرتی ہیں۔
سینٹرسٹ سٹیزنز موومنٹ پارٹی سے ایک تیسرا اور کم مقبول امیدوار جارج الواریز مینیز بھی مقابلے کی دوڑ میں شامل ہے، لیکن اس کی جیت کے امکانات بہت کم ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دو بیٹوں کی ماں یہودی ، دارالحکومت نیو میکسیکو کی سابق گورنر اور صدر لوپس اوبراڈور کی شاگرد ’کلاوڈیا شین بام‘ ہیں جن کا مقصد موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھنا ہے۔ وہ کم آمدنی والے لوگوں اور محنت کش طبقے کے فائدے کے لیے سماجی پروگراموں کو وسعت دینے پرکام کررہی ہیں جب کہ ان کی مدمقابل سچٹل گالویزدوسری مقبول امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے اپنی الیکشن مہم کے دوران وعدہ کیا وہ تشدد اور بدعنوانی سے نمٹنے پر زور دیں گی۔
شین بام ایک ماہر طبیعیات ہیں اورانجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔ وہ مذہباً یہودی ہیں اور ان کے دادا یہودی تھے جو بیسویں صدی کے آغاز میں لتھوانیا سے میکسیکو منتقل ہوگئے تھے۔ وہ ایک کمیونسٹ تھے۔ جبکہ اس کی والدہ کا خاندان بلغاریہ کے یہودیوں سے تعلق رکھتا تھا۔
اگرچہ اس کے والدین نے اس کی پرورش مذہبی طور پر نہیں کی، لیکن اس نے خود کو یہودی ثقافت سے ہم آہنگ کرلیا تھا۔ اس نے ایک بار کہا تھا "میں یہودی برادری کے قریب ہوں کیونکہ ہم نے یہودیوں کی چھٹیاں اپنے دادا دادی کے گھر منائی تھیں" لیکن وہ خود کو میکسیکو میں 50,000 یہودیوں کا حصہ نہیں سمجھتی۔
شین بام کے بارے میں بھی جانا جاتا ہے کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے بعد لکھا کہ "ہمیں کسی بھی قسم کے تشدد کی مذمت کرنی چاہیے، خاص طور پر معصوم شہریوں پر اس قسم کے حملے کی مذمت کی جانی چاہیے"۔ اس کے بعد انہوں نے فلسطین ۔ اسرائیل تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ"میں اس بات سے بھی اتفاق کرتی ہوں کہ دنیا کے اس خطے کو پرسکون کرنے کے لیے فوری راستہ تلاش کرنے کے لیے تشدد کو روکنا اور دونوں ریاستوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے"۔
-
اردن: غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بین الاقوامی کانفرنس 11 جون کو ہو گی
اردن کے مسئلہ فلسطین میں ایک اہم فریق اور فلسطین سے جڑے ملک اردن نے ہنگامی بنیادوں ...
مشرق وسطی -
نیویارک میں مسلم نرس غزہ میں اسرائیلی جنگ کو 'نسل کشی' کہنے پر نوکری سے برطرف
نیو یارک سٹی کے ایک ہسپتال نے ایک فلسطینی نژاد امریکی مسلم نرس کو غزہ میں اسرائیل ...
بين الاقوامى -
کیا بائیڈن کی تجویز سے غزہ جنگ ختم ہو جائے گی؟ پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے؟
امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب میں غزہ میں ...
مشرق وسطی