ایک ہولناک واقعے میں کل ہفتےکو وسطی انڈونیشیا میں ایک خاتون اژدھے کے پیٹ کے اندر مردہ پائی گئی جس نے اسے نگل لیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق پینتالیس سالہ فریدہ کے شوہر اور جنوبی سولاویسی صوبے کے گاؤں کلیمبنگ کے رہائشیوں نے خاتون کو تقریباً پانچ میٹر لمبےاژدھے کا پیٹ چاک کرنے کے بعد اندر پایا۔
گاؤں کے رہ نما سواردی روسی نے کہا کہ چار بچوں کی ماں فریدہ جمعرات کی شام کو لاپتا ہوگئی تھی۔اس کی تلاش شروع ہوئی مگراس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
اس نے وضاحت کی کہ گاؤں والوں نے اسے علاقے میں تلاش کیا۔ اس دوران انہیں ایک بڑا سانپ ملا جس کا پیٹ بہت زیادہ پھولا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے ہلاک کر کے اس کا پیٹ چاک کیا تو اندر خاتون کی لاش موجود تھی اور اس کے کپڑے تک سلامت تھے۔
⚠️ TRIGGER WARNING⚠️
— Miss Tweet | (@Heraloebss) June 7, 2024
Seorang Petani Wanital Ditelan Piton Saat Hendak Menjual Hasil Kebun ( 7/6/2024)
📍Dusun III Paraja, Desa Kalempang, Kecamatan Pitu Riawa, Kabupaten Sidrap, Sulawesi Selatan pic.twitter.com/8SDoouAV7D
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ سانپ کا پیٹ کاٹ کر خاتون کی لاش کو نکالا جا رہا ہے۔
انڈونیشیا میں حالیہ برسوں میں سانپوں کے ہاتھوں لوگوں نگل جانے کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو چکی ہے۔
پچھلے سال جنوب مشرقی سولاویسی کے تینانگیا ضلع کے رہائشیوں نے آٹھ میٹر لمبے اژدھے کو مار ڈالا جب اس نے ایک کسان کو ہلاک کردیا تھا۔
سنہ2018ء میں جنوب مشرقی سولاویسی کے مونا قصبے میں ایک 54 سالہ خاتون سات میٹر کے ایک اژدھے کے اندر مردہ پائی گئی۔
2017 میں ایک چار میٹر لمبے سانپ مغربی سولاویسی میں پام آئل کے باغ میں ایک کسان کو کھا گیا تھا۔