ترکیہ میں صحت کے حکام نے شام کی سرحد پر ملک کے جنوب میں واقع ریاست سنلیورفا کے دو رہائشی علاقوں میں قرنطینہ نافذ کر دیا۔ ترک میڈیا نے ریاست میں صحت کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ دو رہائشی محلوں کی گلیوں میں ریبیز سے متاثرہ دو کتے دیکھے گئے ہیں ۔ صحت کے حکام نے الایوبیہ کے علاقے میں دو رہائشی محلوں میں اس وقت قرنطینہ نافذ کرنے کا اعلان کیا جب وہاں ریبیز میں مبتلا دو کتوں کا پتہ چلا۔ چار برس قبل کورونا وبا پھیلنے کے بعد سے پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ حکام نے اس نوعیت کا قرنطینہ نافذ کیا ہے۔
ترکیہ کے محکمہ صحت کے حکام کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ریاست میں دو کتوں نے 4 شہریوں کو کاٹ لیا اور علاقے کے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ حکام ان دونوں کتوں کو پکڑ کر ان کے ضروری ٹیسٹ کرائے۔ ٹیسٹوں سے واضح ہوا کہ یہ کتے دراصل ریبیز میں مبتلا تھے۔ صحت کے حکام نے دو رہائشی علاقوں میں قرنطینہ کے فیصلے کو علاقے میں نامعلوم کتوں جو ریبیز کا بھی شکار ہوسکتے ہیں کی موجودگی سے جوڑا ہے۔ قرنطینہ کو احتیاطی تدابیر کے طور پر بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس پر قابو پانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
واضح رہے ترکیہ میں آوارہ کتوں کا مسئلہ ایک بار پھر اس وقت سامنے آیا جب ترک صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ مئی کے آغاز میں اس مسئلے کے بارے میں اپنی تشویش کا اعلان کیا۔ گزشتہ موسم سرما میں فلمائے گئے ویڈیو کلپس کے دوبارہ منظر عام آئے تھے۔ ان کلپس میں راہگیروں کو کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں آوارہ کتوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ ہوگئی ہے۔ وزیر زراعت سمیت سرکاری حکام نے تقریباً دو سال قبل بتایا تھا کہ آوارہ کتوں کی تعداد تقریباً 10 ملین ہے۔