بائیڈن کی صدارت کو نئے خطرے کا سامنا ، بڑے عطیہ کنندگان سپورٹ روکنے کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا میں صدر جو بائیڈن پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات کی دوڑ سے دست بردار ہو جائیں مگر لگتا ایسا ہے کہ بائیڈن ان مطالبات پر کان دھرنے میں دل چسپی نہیں رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں یوم آزادی کے حوالے سے منعقد تقریب میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ "وہ کہیں نہیں جائیں گے"۔

بائیڈن کو بعض دولت مند ڈیموکریٹ عطیہ کنندگان کی جانب سے بھی دست برداری کے مطالبے کا سامنا ہے۔ کم از کم دو عطیہ کنندگان نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر بائیڈن نامزد امیدوار رہے تو وہ عطیات دینا روک دیں گے۔

ان میں ابیجل ڈزنی کا کہنا ہے کہ صدارتی دوڑ میں بائیڈن کی موجودگی کی صورت میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کو عطیات ہر گز نہیں دیں گی۔ جمعرات کے روز CNBC ٹی وی نیٹ ورک کو دیے گئے بیان میں ڈزنی نے واضح کیا کہ وہ بائیڈن کا احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے شان دار طریقے سے ملک ک خدمت کی تاہم "اگر بائیڈن سبک دوش نہ ہوئے تو ڈیموکریٹس کو نقصان ہو گا، مجھے یقین ہے کہ نتائج واقعتا بھیانک ہوں گے"۔

ادھر موریا فنڈ کے سربراہ جدعون شٹائن نے صدر بائیڈن کو سراہا تاہم ساتھ ہی باور کرایا کہ وہ غیر منافع بخش تنظیموں اور متعلقہ سیاسی گروپوں کے لیے مجوزہ 35 لاکھ ڈالر کے عطیات روک دیں گے۔ انہوں نے CNBC ٹی وی نیٹ ورک سے گفتگو میں بتایا کہ "تمام مرکزی عطیہ کنندگان جن سے میں نے بات کی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرانے کے لیے امریکا کو ایک نئے امیدوار کی ضرورت ہے"۔

واضح رہے کہ 27 جون کو صدارتی مباحثے میں 81 سالہ جو بائیڈن کی خراب کارکردگی کے بعد کانگریس میں ڈیموکریٹس کے اندر صدر کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

امریکا میں "مارننگ کنسلٹ" نامی ادارے کی جانب سے کرائے جانے والے ایک سروے میں 60% ووٹروں کا کہنا ہے کہ یقینا صدر (بائیڈن) کی جگہ کوئی اور ڈیموکریٹ امیدوار سامنے آنا چاہیے۔

صدر جو بائیڈن اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے اطمینان دلانے کے لیے جمعے کے روز وسکونسن کی اہم ریاست میں انتخابی جلسہ منعقد کریں گے۔ اس کے بعد وہ ABC ٹی وی چینل کو انٹرویو بھی دیں گے۔

وہ آئندہ ہفتے ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں