روس کے صدر پوتین کے ساتھ مودی کا کسی معاملے میں عدم اتفاق نہیں ہوا ہے۔ اس امر کا اظہار روس اور بھارت دونوں کی طرف سے ایک وضاحتی بیان میں کیا گیا ہے۔ جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ماسکو کے دوران بین الاقوامی میڈیا میں سامنے آنے والی خبروں کے بعد ضروری ہو گیا تھا۔
اس کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ مودی کے دورے کے موقع پر ایک طے شدہ ایجنڈا آئٹم مبینہ طور پر منسوخ کر دی گئی تھی۔ اس بارے میں کہا گیا کہ مودی نے منگل کے روز صدر پوتین یوکرین میں بچوں کے ہسپتال پر روسی بمباری کے سبب مبینہ طور پر برا بھلا کہا تھا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے رپورٹرز سے بدھ کے روز بات کرتے ہوئے کہا 'جہاں تک ایک مودی اور پوتین کے درمیان ملاقات کے ایک سیشن کو منسوخ کرنے کا معاملہ ہے وہ اس لیے کیا گیا تھا کہ اس سے پہلے ایجنڈا آئٹمز مکمل ہو گئے تھے۔ '
دمتری نے کہا 'اس معاملے کسی بھی طرح دونوں رہنماؤں کے درمیان عدم اتفاق سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نہ ہی کوئی اور مسئلے والی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔ '
ادھر ویانا میں موجود بھارتی وزیر خارجہ موہن کواترا نے بھی ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے۔ کہ بھارت اور روس کے سربراہوں کے درمیان کواختلاف پیدا ہو گیا تھا اس لیے ایک سیشن منسوخ کر دیا گیا، ان کا کہنا تھا یہ غلط اور گمراہ کن بات ہے۔'
وزیر خارجہ موہن کواترا نے کہا 'میرے بہترین علم کے مطابق ایسی کوئی منسوخی نہیں کی گئی تھی۔ نہ ہی کوئی ایسی وجہ تھی کہ ایک پورا سیشن ہی منسوخ کر دیا جاتا۔'
-
یوکرین جنگ کے بعد بھارتی وزیر اعظم کا پہلا دورہ روس
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی یوکرین جنگ کے بعد روس کا پہلا دو روزہ سرکاری دورہ کر ...
بين الاقوامى -
یوکرین پر روسی ڈرون حملہ، سومی کے علاقے میں توانائی کی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا
چند مہینوں میں روس کے یوکرین کی برقی تنصیبات پر بڑے حملے
بين الاقوامى -
روس کی پاکستان کو توانائی کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی پیشکش
روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے آستانہ میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی ...
پاكستان