کملا ہیرس کے شوہر کی یہودی بیٹی غزہ کے بچوں کے لیے عطیات مہم میں شریک رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد گذشتہ برس نومبر میں 25 سالہ امریکی فیشن ماڈل Ella Emhoff نے غزہ کی پٹی کے بچوں کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ یہ مہمInstagram اکاؤنٹ کے ذریعے متعارف کرائی گئی جہاں ایلا کے فالوور کی تعداد 3.14 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایلا بھی اپنے وکیل والد Douglas Emhoff کی طرح یہودی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ ڈگلس 2014 سے اب تک امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر ہیں۔ اس سے قبل ڈگلس کی شادی ایک امریکی خاتون فلم پروڈیوسر سے ہوئی تھی۔ اس خاتون سے ایلا اور اس کی بہن پیدا ہوئیں۔ ڈگلس اور ان بچیوں کی ماں کے درمیان 2008 میں طلاق ہو گئی تھی۔

ایلا کا قائم کردہ "فلسطینی بچوں کا امدادی فنڈ" ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جس کا صدر دفتر امریکی ریاست اوہایو میں ہے۔ پہلے مرحلے میں اس فنڈ نے 79 لاکھ ڈالر اکٹھا کر لیے جب کہ اس مہم کا ہدف 1 کروڑ ڈالر تھا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق ایلا کہتی ہے کہ اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ یہودی ہے۔ بعد ازاں اس امریکی فیشن ماڈل نے فنڈ کا ہدف 2 کروڑ ڈالر تک بڑھا دیا جب کہ فنڈ کا حجم 1.9 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے ریپبلکن رکن جیف وین ڈرو نے کملا ہیرس کے شوہر کی بیٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فنڈ کے تحت جمع ہونے والی رقم تقریبا یقینی طور پر حماس تنظیم استعمال میں لائے گی۔ وین ڈرو کے مطابق یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔

مینا اور کملا
مینا اور کملا

یاد رہے کہ 3 سال قبل 20 مئی 2021 کو کملا ہیرس کی بھانجیMeena Harris نے انسٹاگرام پر ایک تصویر جاری کی تھی۔ اس کا مقصد مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے الشيخ جراح کے مکینوں کے ساتھ اظہار یکجہتی تھا۔ مینا نے فلسطینیوں کو درپیش ظلم کی مذمت بھی کی تھی۔ مینا نے لکھا کہ "میں الشیخ جراح کے رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں ... فلسطینیوں کے خلاف ظلم کو نظر انداز کر کے کوئی انسان نسلی مساوات، عورتوں کے حقوق، فاسد نظام اور دیگر مظالم کی مذمت کا دعویٰ نہیں کر سکتا"۔

اسی طرح امریکی روک بینڈRage Against the Machine نے مقبوضہ اراضی میں فلسطینیوں کے خلاف سرائیل کے جرائم کی مذمت کی تھی۔ بینڈ نے ٹویٹر پر دو ٹویٹس میں لکھا تھا کہ "الشیخ جراح ، مسجد اقصیٰ اور غزہ میں دیکھے جانے والا شرم ناک تشدد یہ اسرائیل کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری وحشیانہ نسلی عصبیت کا سلسلہ ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں