بیجنگ اعلامیہ: فتح اور حماس کے درمیان فریم ورک پر معاہدہ اور الفاظ پر اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطین کی تحریک فتح کی طرف سےسامنے آنے والے اس بیان کے بعد ’حماس فلسطینی اتحاد کے حوالے سے اپنی سوچ میں پختگی پیدا کر چکی ہے‘ اس نے "بیجنگ اعلامیہ" کی کچھ تفصیلات کا انکشاف کیا۔

"فریم ورک پر معاہدہ اور الفاظ پر اختلاف"

تحریک الفتح کے ترجمان اور موبلائزیشن کمیشن کے عہدیدار عبدالفتاح دولہ نے واضح کیا کہ ان کی جماعت فلسطین کی تاریخ میں تقسیم کا سیاہ صفحہ پلٹنا چاہتی ہے۔

انہوں نے منگل کے روز العربیہ/الحدث کے ساتھ بات چیت میں مزید کہا کہ فلسطین کی تقسیم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے لیکن دھڑے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب ترجیح یہ ہے کہ غزہ میں جنگ کو روکا جائے اور جنگ کے بعد کے مرحلے پر بات کی جائے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے بارے میں حماس کے ساتھ رائے میں اختلاف ہے۔ تحریک فتح بین الاقوامی قراردادوں کے عمومی فریم ورک پر حماس سے متفق ہے لیکن الفاظ کے حوالے سے ان سے اختلاف ہے۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب تحریک فتح کے ترجمان اسامہ القواسی نے منگل کو العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حماس کی فلسطینی اتحاد کے حوالے سے اپنی سوچ میں پختگی آچکی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ دھڑوں نے ایک ایسی حکومت بنانے پر اتفاق کیا جس میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی شامل ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین میں معاہدے پر دستخط کے بعد محتاط امید ہے۔ آج کے حالات محصور غزہ میں جنگ روکنے کے لیے دباؤ پر مرکوز ہیں۔

ان کا یہ بھی خیال تھا کہ حالات ایک مصالحتی حکومت کی تشکیل کا باعث بنیں گے۔ فلسطینی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اس نے حماس کے ساتھ معاہدے کی پختگی میں اہم کردار ادا کیا۔

قبل ازیں حماس کے رہ نما موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ تحریک فتح اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ چین میں ایک میٹنگ کے دوران "قومی اتحاد" کے معاہدے پر دستخط کر چکی ہے۔

ابو مرزوق نے کہا کہ تحریک نے آج قومی یکجہتی کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، یہ سمجھتے ہوئے کہ سفر کی تکمیل کا راستہ قومی اتحاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "ہم قومی اتحاد پر قائم ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں"۔

"بیجنگ اعلامیہ"

قابل ذکر ہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ییکان نے منگل کو چینی دارالحکومت بیجنگ میں فلسطینی دھڑوں کی طرف سے "بیجنگ اعلامیہ" پر دستخط کے دوران تصدیق کی کہ اس میں سب سے اہم نکتہ جنگ کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے ایک عبوری قومی مفاہمتی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ تھا۔

چائنہ سنٹرل ٹیلی ویژن کے مطابق، فلسطینی دھڑوں نے 21 سے 23 جولائی تک چینی دارالحکومت میں ملاقات کی اور ایک مصالحتی مذاکرات کیے۔

ٹیلی ویژن نے بتایا کہ دونوں تحریکوں نے مفاہمتی بات چیت کے حوالے سے "بیجنگ اعلامیہ" پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ فلسطینی تحریک فتح اور حماس کے رہنما چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی موجودگی میں منگل کو بیجنگ میں میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اجلاس میں کل 14 فلسطینی دھڑے شرکت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں