آوارہ کتوں کے قانون پر ترک پارلیمنٹ میں بحث سے نیا تنازعہ اور احتجاج شروع

حزبِ اختلاف اور حقوق کی تنظیموں نے بل کو نامناسب قرار دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترک پارلیمنٹ میں اتوار کے روز ایک ایسے قانون پر جذباتی بحث چھڑ گئی جس کا مقصد لاکھوں آوارہ کتوں پر قابو پانا ہے جبکہ اس قانون کے مخالفین کا خیال ہے کہ یہ جانوروں کی ہلاکت کی ایک وسیع مہم کا سبب بن سکتا ہے۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ ملک میں چار ملین آوارہ کتے ہیں اور مذکورہ قانون جس پر کئی دنوں تک بحث ہو گی، کے تحت بیمار اور "منفی رویئے" کے حامل جانوروں کو مارنے کی اجازت ہو گی۔

کتوں کو لاوارث چھوڑنے پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ 30 گنا بڑھا کر 60,000 لیرا (1,800 ڈالر) کر دیا جائے گا۔

صدر رجب طیب اردگان نے بحث سے قبل کہا، ترکی کو "کسی دوسرے مہذب ملک کی طرح" ایک ایسے مسئلے کا سامنا ہے جو "تیزی سے بڑھ رہا ہے۔" ریبیز کے کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد خاص طور پر حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

تاہم حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ وسیع پیمانے پر جانوروں کی آسان موت چاہتے ہیں۔ اردگان نے کہا، لوگ "محفوظ سڑکیں" چاہتے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے گروپوں نے بڑے پیمانے پر نس بندی کی مہم چلانے کا مطالبہ کیا ہے اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس قانون کے خلاف لڑنے کا عزم کیا ہے خواہ یہ اپنی موجودہ حالت میں منظور ہی ہو جائے۔

استنبول اور دیگر بڑے شہروں کو کنٹرول کرنے والی ریپبلکن پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ اس کے میئر اس قانون کا اطلاق نہیں کریں گے۔ حالیہ ہفتوں میں احتجاجی مظاہرے بشمول پارلیمنٹ کے اندر ہوئے ہیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ قانون پر عمل کرنے سے انکار کرنے والے میئرز کو جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ اور اس نے احتجاج سے بچنے کے لیے مہمانوں کی پارلیمنٹ تک رسائی پر پابندی لگا دی ہے۔

اس بحث نے 1910 میں عثمانی حکام کے نافذ کردہ ایک اقدام پر دوبارہ بحث چھیڑ دی ہے جب استنبول میں دسیوں ہزار آوارہ کتوں کو پکڑ کر بحیرۂ مرمرہ کے ایک ویران جزیرے پر بھیج دیا گیا تھا۔

کتے ایک دوسرے کو کھا گئے اور زیادہ تر بھوکے مر گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں