لفتھنسا نے اپنی پروازوں کو سات اگست تک عراق اور ایران کی فضائی حدود سے دور رکھنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے، یہ فیصلہ شرق اوسط میں جنگی خطرات میں اضافے کی حالیہ لہرکے درمیان اور حماس سربراہ اسماعیل ھنیہ کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔
فضائی کمپنی کی طرف سے پیر کے روز کہا گیا ہے۔۔ لفتھنسا اور اس طرح کی دیگر کئی فضائی کمپنیان خصوصاً یورپی ممالک کی کمپنیاں بیروت کا سفر پہلے ہی معطل کر چکی ہیں تاکہ حالات کی خطرناکی میں خود کو مشکلات میں نہ پھنسا لیں۔
پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جاری سلامتی کے امور کے جائزوں کی وجہ سے کمپنی کے پروازوں کے لیے ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے دور رہتے ہوئے گزرا جائے گا۔ یہ گریز اور احتیاط کی حکمت عملی سات اگست تک جاری رہے گی۔
لفتھنسا نے یہ اعلان بھی کیا ہے عمان اور اربیل جانےوالی پروازوں کو بھی سات اگست تک معطل رکھا جائے گا۔ اسی طرح تل ابیب کے لیے پروازیں بھی سات اگست تک معطل رہیں گی جبکہ تہران اور بیروت کے لیے پروازوں کا یہ سلسلہ 12 اگست تک رکا رہے گا۔
-
خطے میں جنگ کو بڑھانا نہیں چاہتے مگر اسرائیل کو سزا دینا ضروری ہے: ایران
ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے سے کہا گیا ہے کہ ایران خطے میں جنگ کے پھیلاؤ پر یقین ...
مشرق وسطی -
ایران اور حزب اللہ اگلے 24-48 گھنٹوں میں اسرائیل پر حملہ کریں گے: رپورٹ
اس بار یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کی جوابی کارروائی کیا صورت اختیار کرے گی: بلنکن
مشرق وسطی -
غیر ملکی شہریوں سے لبنان سے کوچ کر جانے کے مطالبات میں اضافہ
اسرائیل نے اتوار کی شب لبنان کے جنوب میں کفرکلا قصبے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔ ...
بين الاقوامى