غزہ میں جنگ بندی کی صورت میں ایران انتقامی کارروائی چھوڑ سکتا ہے : بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اگر غزہ میں جنگ بندی ہو گئی تو ایران اپنے انتقامی حملے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

بائیڈن نے منگل کے روز یہ خیال ظاہر کیا کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کا معاہدہ طے پانے کی صورت میں ایران متوقع طور پر اسرائیل کو نشانہ بنانے کے منصوبے کو چھوڑ سکتا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کی جانب سے حملہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے عمل کو پیچیدہ بنا دے گا۔

اس سے قبل پینٹاگان کے ترجمان پیٹرک رائیڈر نے کہا تھا کہ ایران حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے جواب میں رواں ہفتے کے اوائل میں اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

امریکا نے منگل کے روز بتایا کہ وہ ابھی تک امید کر رہا ہے کہ اسرائیل اور حماس فائر بندی کے مذاکرات کو رواں ہفتے دوبارہ شروع کر دیں گے۔ ادھر قطر بھی حماس تنظیم کو بات چیت میں شرکت پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکا، مصر اور قطر نے گذشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کو مشترکہ طور پر علانیہ دعوت دی تھی کہ وہ مذاکرات کریں۔ یہ مذاکرات جمعرات کے روز شروع ہوں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ودانت پٹیل کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم مذاکرات میں اپنے ملک کی شرکت کو باور کرا چکے ہیں جب کہ قطر نے تصدیق کی ہے کہ وہ حماس کی نمائندگی کی یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں پٹیل نے واضح کیا کہ فائر بندی سے یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئے گی، انسانی امداد پہنچیں گی اور خطے کو تشدد کے دائرے سے باہر نکالنے کے لیے نئی سفارت کاری کی راہ ہموار ہو گی۔

حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی کے مذاکرات میں شریک تھے۔ گذشتہ ماہ 31 جولائی کو ان کے قتل کے بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا۔ ادھر جو بائیڈن نے امریکی افواج کی مزید کمک خطے میں بھیج دی۔ تاہم امریکی صدر نے اس موقع پر ہنیہ کے قتل کے سبب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے منگل کے روز مذاکرات سے متعلق دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے اپنے بعض مواقف پر شدت کا اظہار کیا ہے۔ ان میں غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر اسرائیلی کنٹرول برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں