سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکایت کی ہے کہ سابق صدر براک اوباما کا خاندان ڈیموکریٹک کنونشن کی تقاریر میں میرے خلاف بات کرتے ہوئے نفرت انگیز رہا۔ اس نے میرے مشیروں کا مذاق اڑایا کہ وہ ذاتی حملوں کے بجائے سیاست پر قائم رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایریزونا میں ایک ریلی میں کہا کہ اوباما میرے لیے ناگوار تھا۔ مشیل اوباما بھی ناگوار تھیں۔ وہ سب ناگوار ہیں۔ ٹرمپ نے نومبر کے انتخابات میں اپنی حریف نائب صدر کملا ہیریس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کملا ہیرس نے جمعرات کی رات صدارتی امیدوار کے طور پراپنی قبولیت کے دوران ٹرمپ کو بار بار تنقید کا نشانہ بنایا۔
سابق صدر نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ان کے مشیر ان سے کہہ رہے ہیں کہ سیاست پر قائم رہیں اور شخصیات پر توجہ نہ دیں۔ وہ مجھ پر سخت حملہ کر رہے ہیں اور یہ مجھے کہ رہے ہیں کہ مجھے ذاتی نہیں ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا وہ میرے ذاتی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں لیکن مجھے ان کے معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ مجھے بہت برے ناموں سے پکار رہے ہیں۔
ٹرمپ اور اوباما برسوں سے سیاسی حریف رہے ہیں لیکن ٹرمپ کے اس سازشی نظریہ کو آگے بڑھانے پر ان دونوں کے درمیان ذاتی دشمنی بھی رہی ہے۔ ٹرمپ کے نطریہ میں کہا گیا تھا کہ بارک اوباما برسوں سے امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ مشیل اوباما نے منگل کو ٹرمپ کو ایک ایسا شخص قرار دیا جس نے وراثت میں ملی دولت سے فائدہ اٹھایا ہے اور وہ محنت کرنے کو نہیں سمجھتے ہیں۔